دینی سیاسی جماعتوں کے نام – کونوا انصارا اللہ – کتابچہ استاد اسامه محمود حفظه الله

شارك هذا الموضوع:

دینی سیاسی جماعتوں کے نام – کونوا انصارا اللہ – کتابچہ استاد اسامه محمود حفظه الله

 

استدعا

وطن عزیز میں ہر آئے روز کے ساتھ دین مغلوب جبکہ مغربیت اور لادینیت ایک نہ تھمنے والے طوفان کی صورت میں مسلسل غالب ہو رہی ہے، نتیجتا  ہماری محبوب قوم اس دنیا میں بھی شریعت کی برکتوں سے محروم، انتہائی تنگی اور بے سکونی کی زندگی گزار رہی ہے اور خدشہ  ہے کہ  آخرت میں بھی وہاں اللہ سبحانہ و تعالی کی ناراضگی اور ناکامی و نامرادی کا سامنا ہو، سیاسی دینی جماعتوں سے وابستہ ہمارے بھائی اس طوفان کے مقابل  کیوں  مکمل طور پر غیر مؤثر ہیں ؟ پھر وہ کیا مطلوب اور آسان راہ عمل ہے کہ جس پر چل کر اللہ کے دین کی مدد ہو سکتی ہے؟…

اس مختصر سے پیغام میں ان امور  کی طرف توجہ دلائی  گئی ہے، دینی  سیاسی جماعتوں سے وابستہ  ہر قائد اور کا رکن تک یہ پیغام پہنچانے کی استدعا ہے۔

 

 

حصہ اول :

 

کہاں ہیں وہ جنہیں دین کے دفاع کو اٹھنا تھا؟

 

 

حصہ دوم :

 

جمہوریت نے اہل دین سے  کیا     چھینا…؟

 

 

حصہ سوم:

 

              جمہوری سیاست

اہل دین  کی  طاقت کا سبب   ہے یا…کمزوری کا ؟!!

 

حصہ چہارم:

 

مطلوب  اور   آسان   راہ  عمل

 

پہلا  حصہ

کہاں ہیں وہ جنہیں دین کے دفاع کو اٹھنا تھا…؟

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسول الله

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي  يَفْقَهُوا قَوْلِي

پاکستان میں بسنے والے میرے  عزیز اہل دین بھائیو !

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

میرے وہ بھائیو  جن کے دلوں میں دین کی محبت ہے  اور جو دین داری  کے عنوان سے  پہچانے جاتے ہیں ، پھر ان میں بھی   بالخصوص ان  بھائیوں سے آج  ہم  مخاطب ہیں جو کسی مذہبی سیاسی جماعت سے وابستہ  ہوں …اور ایسے وقت میں آپ کے سامنے یہ گزارشات رکھ رہے ہیں  جب الیکشن  2018 کا ہنگامہ  ختم ہوئے کچھ ہی  عرصہ گزرا ہے   ۔ آپ کے  صرف چند  امیدوار ہی  اسمبلیوں میں پہنچے  اور ماضی  کی طرح آج    بھی  آپ اس پر پریشان  ہیں ۔ اسی طرح  آپ  انتخابات  میں دھاندلی کی شکایت بھی کر رہے ہیں ، دھاندلی ہوئی یا نہیں ہوئی ؟ یہ ہمارا موضوع نہیں ہے ، بلکہ یہاں ہمارے  مد نظر  اس سے اہم تر   امور ہیں اور انہی پر ان شاءاللہ گفتگو ہو گی   ۔یہ گفتگو  چار مختصر نشستوں پر مشتمل ہو گی ، اللہ  اسے ہم سب کے لیے نافع ثابت کرے ،آمین۔

محترم بھائیو !

ہو سکتا ہے کہ آپ میں سے کوئی یہ  سمجھے کہ  ہم مجاہدین آپ کے حریف  یا   خدانخواستہ آپ کے بد خواہ ہیں    ، تو  میرے   بھائیو اور بزرگو! ایسا قطعاً نہیں ہے ، ہم اگر آپ کے لیے اس جمہوری سیاست  پر راضی نہیں ہیں،    تو اللہ گواہ ہے کہ ہم  خود اپنے لیے بھی اسے پسند نہیں کرتے ، بلکہ اس راستے کو  اپنے دین  اور  آخرت کے لیے  خطرہ سمجھتے ہیں   ۔ عزیز بھائیو! آپ اہل دین ہیں اور آپ کا یہ شعار ، آپ کی یہ پہچان  اس سے کہیں زیادہ  اعلی  اور ارفع ہے کہ آپ اس  سراسر شر والے   راستے پر، ابلیس کی  بنائی گئی ان  بھول بھلیوں میں  بھٹکتے  پھریں اور اس کے نتیجے میں    دین  دشمنوں  کو  اہل دین کے اوپر ہنسنے  کا موقع ملتا رہے … لہٰذا  آپ  یقین  رکھیے  کہ ہم آپ کے بد خواہ نہیں، خیر خواہ ہیں…  آپ    کے  دشمن نہیں، آپ کے    بھائی ہیں…  اور ان شاء اللہ آپ کے لیے ہم کبھی  کوئی ایسی چیز پسند نہیں کریں گے  جو خود  اپنے لیے  ہمیں ناپسند اور  ناگوار  ہو۔  اس لیے کہ آپ  ﷺکا فرمان  مبارک ہے ،

(( لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ…))

’’تم میں سے اس وقت تک کوئی  (کامل) مومن نہیں بن سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہ کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو‘‘۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب ہم آپ  سے مخاطب ہوتے  ہیں  تو  خود ہماری طرف بھی یہ سوال پلٹ سکتا ہے  کہ خود   تم  مجاہدین نے دین کی کون سی  نصرت کی ہے؟ تم نے  اہل باطل کا  کون سا راستہ روکا اور امت کے زخموں پر کون سا مرہم رکھا  ؟ توہم  سمجھتے ہیں …اور واللہ اعلم  اس میں ان شاء اللہ  مبالغہ  نہیں ہو گا کہ الحمدللہ مجاہدین نے  مقدور بھر کوشش  ضرور کی ہے ،انہوں نے اپنے پاس ، اپنے دامن  میں کچھ  بھی بچا کر نہیں رکھا بلکہ اس دین پر، اس کی   دعوت و دفاع  پر  اور رسول اللہ ﷺ کی مظلوم امت   پر وہ  سب کچھ نچھاور کیا ہے جو ان کے پاس  تھا اور الحمد للہ آج بھی  افغانستان سے یمن و مالی تک بلکہ پوری دنیا میں   اللہ کے یہ بندے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔

ہم آپ سے پیشگی طور پر اپنے اس دکھ کا بھی   ذکر کرتے ہیں     کہ جہاد کا نام داعش جیسے مجرمین نے بھی لیا، انہوں نے جہاد کو  بدنام کیا، جہاد کا مبارک  نام استعمال کر کے وہ جرائم کیے ،     اسلام اور اہل اسلام   تک پر وہ مظالم ڈھائے   جن سے کفر اور   اہل کفر کو بہت   فائدہ  ہوا،   اس طرح  خفیہ ایجنسیاں بھی آج اپنے  جرائم کو داعشی  فسادیوں  کے سر تھوپ رہی ہیں تاکہ جہاد اور اہل جہاد خوب بدنام ہوں    اور  ظلم و فساد   کی یہ رات کبھی   ختم نہ  ہو۔

پھر ہمیں  اس کا بھی اعتراف  ہے کہ  خود اہل  خیر مجاہدین بھی  فرشتے نہیں ، انسان ہیں ،ان سے بھی  خطائیں   ہو سکتی ہیں   ، لہٰذا ہمارا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ جہاد کے نام پر  جس نے جو کچھ کیا وہ  ٹھیک  ہے اور   آپ بھی وہ  سب کچھ  کریں  بلکہ  ہماری دعوت یہ ہے کہ اللہ کے اس دین کا جو مطالبہ ہے  اور شریعت کا جو تقاضا ہے ، اس پر ہم  اور آپ   عمل کریں  ، قیامت کے دن  ہم سے کسی   دوسرے کے  متعلق نہیں پوچھا جائے گا بلکہ  باز پرس جو ہو گی وہ  ہم سے    ہمارے  موقف اور ہمارے   عمل کے بارے میں ہو گی۔ لہٰذا کسی نے دین کی نصرت کی ہے یا نہیں کی ، ہم اور آپ اٹھیں ،دین کی نصرت  کے لیے اپنی  کمر کس لیں   اور  اُن خطاؤں سے  بھی بچیں   جن کے سبب دوسرے اس دین کی  کما حقہ مدد نہیں کر سکے۔ یہی مطلوب ہے اور اسی کا اللہ کے یہاں پوچھا جائے گا۔

میرے  بھائیو اور بزرگو!

پاکستان میں  آج اللہ کے اس  دین پر انتہائی نازک  وقت آیا ہے  ، ایسا وقت  جو شاید کبھی  پہلے نہیں آیا ہو، یہ دین   آج  زبان حال سے ’’مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ ‘‘ اور ’’كُونُوا أَنْصَارَ اللَّه ‘‘کی پکار  لیے  کھڑا ہے …  ہم میں سے  ہر ایک  سے یہ دین مخاطب   ہے  کہ کوئی ہے جو  اللہ  کی مدد کرے ؟ کوئی ہے جو جاہلیت کے اس شور شر ابے کے اندر   اس دین  کے اصل  موقف اور   بنیادی پیغام کا  جھنڈا اٹھائے؟ کوئی ہے جو آج پاکستان میں  لادینیت   کے  اس طوفان  کے مقابل   دفاع  دین کا عنوان بن کر کھڑا ہو ؟    یہ دین  ہم سے  اور آپ سے مخاطب ہے کہ  کون ہے  جو جاہلیت  کے ان بیوپاریوں   اور اندھیروں  کی ان  چمگادڑوں سے مرعوب ہونے کی بجائے  خم ٹھونک کر ، ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اور ان   کی  ذلت   و پستی جبکہ  اسلام  کی عظمت ا  ور شریعت کی   قدر و منزلت دنیا پر ثابت  کرے؟

واللہ  میرے بھائیو! آج جس طرح  دین کی دعوت ، اس کی روح اور اس کے تقاضے  خود  ہم اہل دین کے یہاں  اجنبی بن رہے ہیں  آج سے پہلے   کبھی شاید  ایسا نہیں   تھا۔ عزیز بھائیو آپ ہی بتائیے!    کیا یہ سچ نہیں  ہے  کہ آج یہاں اہل دین کی طرف سے ہر سیاسی  نعرہ اور ہر   عوامی مطالبہ تو   موجود  ہے ،مگر  خود اسلام کا کیا تقاضا  ہے؟  اسلام کا کیا مطالبہ  ہے؟ اس   دین کی کیا ترجمانی ہے اور اس کا  نکتہ نظر   …؟!!!یہ کہیں  سنائی نہیں دیتا۔ یہاں  کتنے  ایشوز  ایسے ہیں کہ جن  پر  ہمارے اہل دین  کا  موقف  لا دینوں کے برعکس اور   اسلام ہی کا ترجمان  ہو؟ آج  ہم  اپنے  دیندار بھائیوں  کی زبانی     صبح و شام   جمہوریت  کی تعریف  و تمجید  ، آئین    سے وفا داری  اور آئین کی بالا دستی    کی رَٹ تو سنتے ہیں   مگر اللہ سے وفا داری ،  خالص   قرآن و سنت  کی بالا دستی ،اتباع شریعت کی دعوت اور نفاذ شریعت کی ضرورت    کہیں نہیں سنتے، آج عوام  کے سامنے ترقی اور خوشحالی  لانے کے  نمائشی  وعدے تو ہو رہے ہیں  مگر عوام کے رب کی اطاعت اور اس کے حقوق ادا کرنے کی طرف  بلانا کہیں نظر نہیں آ رہا۔ اس ملک میں  وطن پرستی  اور قوم پرستی  کے جھنڈے    اٹھانے والے تو   بے شمار ہیں  لیکن   ناپید اگر ہیں یا کمی اگر  ہے تو اُن اہل دین کی     یہاں کمی ہے جن کی پہچان   وطن پرستی کی جگہ خدا پرستی ہونی  تھی   اور جو ایک کلمہ ، ایک کعبہ، ایک رسول  ﷺ اور ایک امت کا دعوی کرتے تھے ۔ میرے بھائیو وہ اہل دین آج کہاں ہیں   جنہوں نے بے دینی اور منکرات     کے اس  غلیظ  سیلاب کے سامنے  بند باندھنا تھا،   وہ  فرزندان توحید آج  کہاں غائب ہیں جنہوں نے مغربیت اور لبرل ازم   کے ان  بد تمیز طوفانوں  کو پیچھے دھکیلنا تھا   ؟ان  اللہ کے بندوں کو ہم کہاں ڈھونڈیں  جنہوں نے  یہ دعوی کرنا تھا کہ یہ  رسول عربی ﷺ کے شیدائیوں کا ملک ہے اور یہاں لبرل ازم ، کیپیٹل ازم اور سیکولرازم  نہیں چلے گا بلکہ یہاں   اسلام اور صرف اسلام چلے گا۔ آپ  ہی بتا  سکتے ہیں میرے عزیزو کہ باطل کی اس  پیش قدمی   در پیش قدمی کے سامنے   دفاع  دین کے یہ اہم ترین   مورچے      اور غلبہ دین  کے  یہ سب محاذ آج بالکل خالی  اور ٹھنڈے کیوں پڑے ہیں ؟

عزیز بھائیو!

حضرت عمر رضی اللہ  عنہ کا فرمان ہے ، حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا!’’اپنا محاسبہ کرو، اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ ہو جائے‘‘۔ آئیے ہم  سب اہل دین تھوڑا سا اپنا محاسبہ کر لیں ، ا پنے سفر کا جائز ہ لیں ۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک کے اس سفر میں کیا ہم اہل دین آگے  بڑھے ہیں ؟ ۔۔۔کیا ہمیں  واقعی  یقین ہے کہ   یہاں اسلام غالب ہو رہا ہے  یا معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے ۔ عزیز بھائیو اور بزرگو! آپ خود فیصلہ کیجئے ،اپنے اپنے  دل ٹٹو   ل  لیجئے ، کیا آپ مطمئن  ہیں کہ  اس  جمہوری راستے پر آپ نفاذ شریعت کی  منزل  کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں ؟؟ دین دشمن مغلوب ہو رہے ہیں؟  بے دینی اور بے حیائی کا راج ختم ہونے لگا ہے؟ منکرات  کم ہو رہے ہیں اور قوم کا دین   بچانے  میں آپ کو  کامیابی مل رہی ہے؟  ہمیں ماننا چاہئے،  اعتراف کرنا چاہیے  کہ ہر نئے دن کے ساتھ پاکستان میں لبرل ازم    کے نام پر لادینیت اور ظلم و فساد کا تسلط مضبوط سے مضبوط تر ہو رہا ہے ،باطل  نت نئے روپ میں ہرسُو چھا  یا جا رہا ہے جبکہ حق لا وارث ،اجنبی  اور مغلوب سے مغلوب تر ہو رہا ہے ۔ افسوس کی بات    تو یہ ہے  میرے بھائیو! کہ اہل دین جو کبھی  اسلامی انقلاب اور نفاذ شریعت کی دعوت دیتے تھے ، اس مبارک مقصد کی خاطر اپنے کارکنوں اور عوام کو لاٹھی اور گولی تک  کھانے کے لیے تیار کرتے تھے ، آج   انہیں یہ منزل ملی یا نہ ملی ،مگر آج خود اس  منزل کی دعوت  تک سے وہ محروم ہو گئے، غرض جنہوں نے  باطل کے خلاف مزاحمت کرنی تھی وہ  آج   باطل  ہی کے ساتھ  تعاون اور مفاہمت  کرتے  نظر آ تے ہیں  ۔

پاکستان کے اے اہل دین بھائیو!

ایک حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے ،  کہ آج  غلبہ اسلام کے اس  معرکے میں  ہماری  دینی  سیاسی جماعتوں  نے اپنی  شکست  مکمل طور پر تسلیم کر لی  ہے ۔   لادینیت  کا  غلبہ  دل و جان سے  قبول کیا جا چکا ہے۔ منکرات کے تابڑ توڑ حملوں کے مقابل ہتھیار رکھے جا چکے ہیں   ا ور اس سیلاب کے مقابل عافیت     سیلاب ہی  کے رو میں  بہنا اور بہتے چلے جانا سمجھا گیا ہے ، آپ سیاسی قائدین  کے قول و عمل دیکھیے ، ایک   مایوسی ہے جو لہجوں  سے ٹپک رہی ہے!  ایک مداہنت ہے جو  قول و عمل سے واضح ہے۔ جنہوں نے باطل مٹانے  کی تحریک چلانی تھی آج وہ باطل  ہی  کے  تحت  جینے ، اُسے راضی کرنے اور اُس سے   فوائد سمیٹنے کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ یہاں سیکولر ز اور لبرل  لا دینوں کی سمت متعین  ہے ، ان کا مدعا ،نصب العین  اور راستہ   بھی  واضح  ہے ،وہ خود علی الاعلان اس کا اظہار بھی کرتے  ہیں اور  آگے سے آگے  بڑھ رہے ہیں ۔لیکن   سمت اگر واضح نہیں ہے ، نصب العین اور راستے سے یہاں  محروم اگر کوئی ہے تو وہ  یہی  ہمارے دیندار   سیاسی بھائی ہیں  ۔اس ساری صورت حال کا نتیجہ یہ  ہے کہ  آج  قیام پاکستان کا مقصد فوت ہو ر ہا ہے ،قوم کی دنیا    بھی تباہ  ہو رہی ہے اور آخرت بھی ، بے  چینی ، بے سکونی  اور  بے مقصدیت ڈیرے ڈال رہی ہے  اور ہماری آئندہ نسلیں   تک جاہلیت اور بے دینی کے اُس سمندر  میں غرق ہو رہی ہیں کہ جہاں اللہ کی رحمت اترنے کی جگہ اس غیور ذات  اقدس   کی ناراضگی اترا کرتی ہے  اور  جہاں پوری کی پوری قوم   مجرم بن جاتی ہے۔ سچ یہ ہے میرے عزیزو کہ  ان  اندھیروں  کے  اسباب   خارجی نہیں ، داخلی ہیں  اور یہی ہماری ذلت و ناکامی   کی  اصل وجوہات ہیں ، ان کی طرف توجہ  دئیے بغیر کوئی ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔

میرے بھائیو اور بزرگو! ہمیں  کہنے دیجیے کہ ان  اسباب میں سے اہم ترین سبب ، اہم ترین وجہ ___ اہل دین کی یہ جمہوری سیاست ہے ۔اب اس  جمہوریت میں کون سی ایسی برائی ہے کہ جس  نے  اہل دین  کو  ان کے  مقصد و ہدف   تک سے محروم  کیا ؟ اس پر ان شاء اللہ اگلی نشست میں بات ہو گی ۔

جزاكم الله خيرًا

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

والسلام علیکم ورحمة الله وبركاته

دوسرا  حصہ

جمہوریت نے اہل دین سے  کیا     چھینا…؟

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسول الله

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي  يَفْقَهُوا قَوْلِي

پاکستان کے میرے عزیز اہل دین بھائیو!

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

پچھلی نشست میں  ذکر ہوا کہ وطن عزیز میں اللہ کا دین انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے ۔یہاں   مذہبی سیاسی جماعتوں سے وابستہ  ہمارے  بھائی بے دینی کے سیلاب کے سامنے    بند باندھنے کی جگہ خود اس کی  رو میں بہہ رہے ہیں اور یہ  کہ  یہ دینی جماعتیں باطل کا غلبہ اور اس کا تسلط شعوری یا لا شعوری  طور پر تسلیم کر چکی  ہیں ۔یہ بھی عرض کیا کہ اس صورت حال کے اسباب خارجی  نہیں ، داخلی ہیں ۔ آج   کی  نشست  میں ان شاء اللہ  ان اسباب میں سے اہم ترین سبب جمہوریت  پر بات ہو گی ۔

عزیز بھائیو اور بزرگو!

کاش  کہ جمہوریت  کی برائی  بس اتنی ہی  ہوتی کہ اس کے ذریعے   اسلام  کو غلبہ ملنا ناممکن ہوتا ۔مگر ایسا نہیں ہے! اس حقیقت سے کہ اس راستے سے اسلام غالب نہیں ہوتا  ، کوئی اندھا ہی انکار کر سکتا ہے،  پاکستان ، مصر ، الجزائر، ترکی، تیونس    بلکہ پورا عالم اسلام اس پر شاہد ہے، لہٰذا   آج  یہ بتانے کی ضرورت  نہیں ہے ۔ بتانے کی جو ضرورت ہے ، احساس دلانے کی جو بات ہے  اور جس کی وجہ سے ہم آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں کہ خدارا اس راستے کو چھوڑیے تو   وہ  یہ  ہے  کہ اس راستے پر جب اہل دین   قدم رکھتے ہیں تو دین  غالب کرنا تو  بہت دور کی بات ہے    ، خود اُن کا اپنا دین خطرے میں پڑ جاتا ہے ۔ اس  راستے کے باعث دین کا فروغ تو ناممکن ہے  لیکن خود اہل دین  بے دینی پھیلانے کا پھر   سبب بنتے  ہیں ، ان کے ہاتھوں شر کی قوتوں کو    تقویت ملتی ہے اور منکرات  فروغ پاتے  ہیں۔ یہ  اس جمہوری سیاست کی شیطانیت ہے کہ شرعی فرائض اور دینی ذمہ دار یاں بھی وہ بوجھ بن جاتی ہیں جن سے چھٹکارا پانے میں  ہی پھر  یہ اہل دین  اپنی  سیاسی   کامیابی دیکھتے ہیں ۔

میرے عزیز بھائیو!

باطل سے اجتناب ، باطل کو باطل کہنا اور باطل کی مخالفت کرنا …  اسی طرح منکر کو ببانگ دہل منکر کہنا، اس کے  پھیلانے والوں سے تعلق توڑ نا  اور ان کے سامنے بند باندھنا…  یہ ہر مسلمان کی شرعی  ذمہ داری ہے اور ہر دینی جماعت  کے وجود کا حقیقی مقصد     بھی یہی ہے ۔ مگر  انتخابی   سیاست کاثمرہ  دیکھیے ، اس کی پوری تاریخ شاہد ہے  کہ اس میں خیر و شر یا حق و باطل     دوستی اور دشمنی  کے معیار  نہیں ہیں، بلکہ دوستی اور دشمنی کا فیصلہ مفادات کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے  کہ    اہل دین جب اس  میں اترتے ہیں تو ظلم  ، بد کاری ، بے حیائی اور کفریہ نظریات جیسے  شر پھیلانے والوں کو  روکنا تو  دور کی بات ، ان کے اس تمام تر  فساد کو فساد  کہنا بھی ان کے بس میں نہیں رہتا بلکہ  ان فساد یوں   کی حمایت چونکہ ان کی  سیاسی ضرورت ہوتی ہے ، اس لیے  انہیں   راضی رکھنا پھر وہ اپنا مقصد بناتے ہیں۔

پھر  عزیز  بھائیو!

آپ جانتے ہیں کہ کفر و اسلام کے درمیان جنگ   ازلی ہے   ، اللہ رب العزت کا فرمان ہے ،

(( وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا  ))

(اور یہ کفار تم سے برابر جنگ کرتے رہیں گے ،یہاں تک کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں  تمہارا دین چھوڑنے پر آمادہ  کر دیں)…گویا کفار یہ جنگ اس وقت تک  جاری رکھتے ہیں  جب تک  مسلمانوں کو وہ اپنے دین سے ہٹا نہ دیں، آج  بھی  امریکہ و مغرب بلکہ پورے عالم کفر   کی  اہل اسلام کے خلاف یہی جنگ ہے ،فرق یہ ہے کہ آج عیسائیت یا کسی اور مذہب  کی   طرف دعوت نہیں  دی جاتی، آج جس چیز کی طرف دعوت دی جاتی ہے ، مسلمانوں کو بالعموم اور اہل دین کو بالخصوص جس طرف کھینچا جا رہا ہے ، وہ جمہوریت کی دلدل ہے ،جمہوریت کی  وہ دلدل  کہ جہاں اہل دین کو جب  پھنسایا جاتا ہے تو تب  ہی جا کر  اللہ کے   دشمن کفر کے ان  سرداروں  کو  چین آتا ہے ۔یہی وجہ ہے  آج صبح و شام اسی جمہوریت کی طرف بلایا جاتا ہے ۔ امریکی صدر  نکسن نے کہا تھا کہ  امریکہ کے پاس  دنیا کے لیے ایک  ہی پیغام ہے اور اسی   کے لیے وہ   لڑتا ہے ، اس  کا ایک پہلو جمہوریت ہے اور دوسرا  سرمایہ دارانہ (سودی)  نظام  ۔ آج مجاہدین سے  عالم کفر کا یہی   ایک  مطالبہ ہے کہ بس  جمہوریت میں شامل ہو جاؤ! یہ شمولیت   جس عنوان سے بھی ہو، مسئلہ نہیں ہے…  دینداری  سے ہو  یا بے دینی   سے  …سب کچھ  قبول ہیں۔ اسلام  چاہتے  ہو؟ شریعت کی بات کرتے ہو؟ تو مسئلہ نہیں ہے جمہوریت میں آ جاؤ  ! داڑھی ،   عمامہ  ، نماز اور روزہ  سب یہاں چلتا ہے، بس   انتخابی سیاست میں ایک دفعہ  اتر آؤ!…… اور اگر  اس میں اتر آئے۔ تو پھر سارے    شکوے ختم  ، کوئی پریشانی  پھر نہیں ہے ،مطلوبین کی لسٹ سے نام خارج ہو جائے گا، اقوام متحدہ   تک اپنی عنایتوں کے  بند  دروازے کھول  دے گا اور تمام    تر پابندیاں ہٹائی  دی  جائیں گی  ۔  افغانستان میں دیکھیے[1] ،فلسطین ،  یمن ، صومالیہ اور  مالی ہر جگہ    مجاہدین  سے بس یہی ایک  مطالبہ  ہے ۔ اب  جمہوریت میں کیا ایسی بات ہے کہ جہاں ’اسلامی جمہوریت ‘کے  علمبردار   بھی عالم کفر کو  اچھے لگتے ہیں    …جبکہ    اسلام ، امن  ،  عدل و انصاف اور دیگر سب خیر موجود    ہوں  مگر جمہوریت نہ ہو، جیسے افغانستان میں امارت اسلامی کے دور میں تھا، تو یہ سب خیر بھی   اسے قبول نہیں؟  کیا وجہ ہے کہ جمہوریت میں ہمارے اہل دین بھائیوں کی سیاست  بھی  لا دینوں سے  مختلف  نہیں رہی  ؟ اور  کیا اسباب ہیں کہ اس راستے سے خیر گھٹتی ہے اور شر کو تقویت  ملتی  ہے ؟تو محترم بھائیو! وجہ یہ ہے ،کہ اسلام  قوت کے ذریعے سے  معروف کو   رائج کرنے اور منکر کو مٹانے کا درس دیتا ہے، یہاں  امر بالمعروف اور نہی  عن المنکر فرض  ہے۔ جبکہ جمہوریت  میں     منکر کا بطور منکر رہنا  اور پھیلنا  منکر کا  جمہوری   حق ہے ، کہتے ہیں جمہوریت کا اصول یہ  ہے کہ  ، Book For Book ،اور Tv Channel For Tv Channel ، کوئی  بہت بری کتاب لکھتا ہے ،تو لکھنے دیں ، پھیلنے دیں اس کتاب کو ،  آپ کو بری لگتی ہے تو   مت پڑھیں ، بہت  بری لگی تو آپ  اچھی کتاب لکھ لیں ، کوئی بہت ہی گندا ٹی وی چینل ہے ، بدترین فحاشی دکھاتا ہے ،کفریہ نظریات  پھیلاتا ہے ، تو مسئلہ  نہیں ہے آپ نہ دیکھیں ،چینل بہت ہیں، آپ بہتر چینل دیکھیں،  اگر آپ کو اس سے زیادہ تکلیف  ہے   اور آپ کے پاس  استطاعت بھی  ہے  تو  اپنا کوئی    اچھا   چینل کھولیں… مگر اس گندے  چینل کو  آپ قوت سے    بند کر دیں، یہ    آپ کے لیے جائز نہیں  ہے، قانون آپ کو اس کی اجازت نہیں دیتا! اس لیے کہ …وہ جو کچھ بھی کرتا ہے وہ   اس کا جمہوری حق ہے۔  یہ  جمہوریت ہے  کہ جہاں   پاکی نے غلاظت  کو برداشت کرنا ہوتا ہے ۔ اور ظاہر ہے ایسے میں پھر   غلاظت ہی بالآخر  پھیلتی ہے ، اس لیے کہ    گندے بد بودار ماحول میں پاکی  کب تک   رہ سکتی ہے؟   یہ جمہوریت ہے  کہ جہاں  شر کے سامنے  خیر  کے ہاتھ پیر  مکمل طور پر باندھ دیے جاتے ہیں  !    اسلام اس کا  بالکل الٹ ہے ، اسلام  معاشرے  کو پاک رکھنے پر زور دیتا ہے ، فرد اور معاشرہ ، سب  کی ذمہ داری ہے کہ منکر  ات کا راستہ روکے اور گند گی اور غلاظت   پھیلانے والوں  کے ہاتھ پکڑے۔

پھر  عزیز بھائیو!

اہم ترین  اور بنیادی نکتہ یہ ہے کہ   جمہوریت  مشرق کی ہو یا مغرب کی ، پاکستان کی ہو یا ہندوستان کی ، اس کا  محور و مرکز اللہ کی بندگی نہیں ہے   ، اللہ کی غلامی نہیں ہے بلکہ اللہ کی غلامی کی جگہ   انسانوں کی غلامی   ہے   ،یہاں تمام تر  دوڑ دھوپ کا مقصد  غالب  طبقات کی خواہشات کو پورا کرنا ہوتا ہے  ۔جمہوریت   لاالہ الاالانسان   کی عملی تصویر  ہے ، یہاں   انسان نما شیاطین کی خواہشات  اور شہوات  کی عبادت   ہوتی ہے ،جبکہ اسلام اللہ کے سامنے مکمل طور پر جھکنے کا نام ہے ،یہ   لاالہ الااللہ ہر  اس خواہش اور ہر اس تمنا  سے  دست برداری کا   عہد  ہے  جو   اللہ  سبحانہ وتعالی  کو ناپسند ہو۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے ،وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ(ان  کے درمیان  ان اصولوں پر  فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کیے ہیں )وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ(اور ان کی خواہشات  کی اتباع نہ کرو، یعنی  ان کی شہوات اور ناجائز میلانات کی طرف  مت جھکو) وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ(اور محتاط رہو ان سے کہ یہ تمہیں  اللہ کے نازل کردہ کسی حکم  سے دور  کر دیں ) میرے بھائیو، یہ اسلام ہے ، یہ  اللہ کا دین ہے جہاں اللہ کے احکامات کم علم اور انتہائی محدود  نظر رکھنے والے   انسان کی ناجائز  خواہشات  پر قربان نہیں کیے جاتے  ، بلکہ تمام تر خواہشات   انسانوں کے  خالق و مالک …اللہ سبحانہ و تعالی  کے اُس  عظیم  دین کے تابع کی جاتی ہیں جو سراسر حکمت اور منفعت   والا دین ہے۔ اب ان تمام تر  رحمانی   اوامر کے بر عکس جمہوریت کہتی ہے کہ لوگوں کے معاملات ان ہی  کی مرضی کے مطابق چلاؤ، ان کی  ہر جائز و ناجائز خواہش کے پیچھے چلو اور ڈرو اس وقت سے جب  تم ان  کی کسی   چاہت  کی مخالفت کر بیٹھو اور یہ تم سے ناراض ہو جائیں! گویا اللہ ناراض ہو تو ناراض ہو مگر یہ   ناراض نہ ہوں!

الیکشن میں آپ نے دیکھا میرے بھائیو! مقصد و ہدف کیا تھا؟  کیا  عوام کو شر سے بچانا مقصد تھا، انہیں  خیر کی طرف بلانا اور خیر  کے دفاع  کی خاطر قربانی کے لیے تیار کرنا   ہدف تھا یا خیر و شر میں تمیز کیے بغیر  اچھے برے سب  لوگوں کو راضی کرنے اور ان کی حمایت حاصل کرنے  کی یہاں کوشش ہو رہی  تھی؟  میرے بھائیو! اللہ کا اعلان ہے ، کہ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ، حاکمیت اللہ کی ہے ،حکم اور امر اللہ کا چلے گا ، مگر جمہوریت کہتی ہے ان الحکم إِلَّا للشعب! حاکمیت  اور حکمرانی عوام کی ہو گی۔ کہتے ہیں ، People are the supreme power۔مرضی اور خواہش  صرف   عوام  کی چلے گی۔ عوام کی اس اکثریت کی خواہش  چلے گی     کہ  جس کی سادگی  کا یہ حال ہے کہ جو  بھی اچھی ڈگڈگی بجائے، وہ    اسی  کے پیچھے  چل دوڑ تی ہے  …وہ اکثریت   جس کے بارے میں اللہ سبحانہ و تعالی  کا فرمان  ہے کہ  وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ(اگر تم زمین میں موجود اکثریت  کے پیچھے چلوگے ) يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ(توتمہیں اللہ کے راستے سے  گمراہ کردے گی۔ کیوں؟ اس لیے کہ)إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ(یہ صرف گمان کے پیچھے چلتی ہے) وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ(اور اس کا کام صرف خیالی اندازے لگاناہے)… اب آپ لاکھ مرتبہ  آئین میں اللہ کی حاکمیت کی ایک سطر لکھوا دیں  ،لاکھ مرتبہ  اس غلیظ  جمہوریت  کے ساتھ اسلامی  کا  سابقہ لگا دیں ، عملاً  یہاں  کیا ہے؟  کس  کے احکامات فیصلہ کن ہیں؟ کس کے فیصلوں    کی  ایک  ایک  سطر کو بطور دلیل   پیش کیا جاتا ہے؟ کیا یہ حیثیت  اللہ کی شریعت کو  حاصل  ہے ؟  نہیں! یہ    خاص  ان  چند افراد  کو حاصل ہے جو دھونس ،دھاندلی اور فریب کے ذریعے  اپنے آپ کو عوام کا  نمائندہ  بناتے ہیں اور یہی  وہ نام نہاد عوامی نمائندے    پھر ہوتے ہیں کہ جن کی خواہشات جمہوریت کا’’ مقدس ‘‘ آئین بنا تی ہیں۔

پھر عزیز بھائیو! ایک اور نکتہ جس کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے… وہ یہ کہ جمہوریت کو لاکھ عوام کی  حکومت کہا جائے ، یہ عوام کی حکومت قطعاً نہیں ہوتی بلکہ حقیقت میں  یہ ان  قوتوں کے غلبے  کا نام ہے جو   عوام کو  قوت اور  دجل و فریب کے ذریعے سے  گمراہ کرتی ہیں ۔پاکستان میں  دیکھیے، یہ قوتیں دین دشمن   فوج  اور  لا دین  میڈیا  کے سرمایہ داروں کی صورت  میں یہاں موجود  ہیں۔ فوج  کے پاس لاٹھی   کی قوت  ہے  جبکہ  میڈیا کے پاس جھوٹ ا ور  جادو کی صلاحیت ہے اور دونوں عوام کو قابو کرتی  ہیں     ۔ لہٰذا اسمبلی  میں سیٹیں اگر لینی ہوں  ، ایوان اقتدار کے چند روزہ مزے اگر  لوٹنے ہوں  یا کم از کم کرسیء اقتدار کی دوڑ میں شامل اگر رہنا ہے تو  فوج اور میڈیا  کو خوش رکھنا لازم  ہے  ۔ آج آپ کے سامنے ہے ، وزیر اعظم کون بنا ؟کیسے بنا؟ کیا فوج  کی لاٹھی اور میڈیا کے جادو کے بغیر یہ  ڈرامہ  ممکن  تھا؟    اس حقیقت کا ادراک ہی ہے   کہ پاکستان میں    ہمارے سیاسی اہل دین حضرات  بھی   آج فوج اور سیکولر میڈیا کو راضی رکھنا اپنا مقصد  بنائے ہوئے ہیں ۔اور  یہی وجہ ہے کہ  فوج  کے بدترین مظالم ہوں ، اس کی شریعت دشمنی کے عالی شان  معرکے ہوں یا سیکولر میڈیا کے  حیا سوز اور   اسلام    مخالف   حملے ، ان سب   کے باوجود ہمارے یہ  دیندار سیاسی بھائی  ان طبقات کے ساتھ راضی بہ رضا نظر آتے ہیں۔

عزیز بھائیو!

آج  پاکستان میں سیکولر ز اسلامی معاشرت کو اس کی بنیادوں تک  سے   اکھاڑ رہے ہیں   اور اسلام پر ہر جانب سے حملہ آور ہیں مگر   ان  کے سامنے ہمارے یہ  ا ہل دین   سیاسی بھائی   سر جھکائے اپنی صفائیاں پیش کر رہے  ہیں ،وہ  ان لا دینوں کے سامنے ایسے  معذرت خواہ ہیں جیسے نعوذ باللہ دینداری کی یہ پہچان ہی  ان کا وہ   سنگین  ترین  جرم ہے   کہ جس کو چھپانے میں ہی   کامیابی  ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح یہ  سیکولر   اور دین دشمن  بھی انہیں اپنا  حامی  سمجھیں  ، یعنی جنہیں انہوں نے  دعوت دینی تھی ، جن کے فساد کا  انہوں نے مقابلہ کرنا تھا ،اُن سے یہ  آج  اپنی دعوت تک چھپاتے ہیں  اور ان کی    ناراضگی سے بچنا اور ان کی  حمایت حاصل کرنا   یہ  کامیابی کا راستہ  سمجھتے ہیں !! کچھ عرصہ پہلے ایک دینی جماعت کے قائد کا ایک سیکولر ادارے نے انٹرویو کیا ،  پوچھا گیا ’سیکولر ازم کیا ہے‘ تو محترم  بولے ،میری عوام کا مسئلہ سیکولرازم نہیں ہے  ، غربت،  بے روز گاری اور بنیادی ضروریات سے محرومی ہی میری  عوام کا مسئلہ   ہے ۔یا اللہ! یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک دینی قائد بھی  یہ بات کہہ سکتا ہے!!! ایک وقت تھا جب سیکولرازم اور لادینیت ہی دینی جماعتوں کے نشانے پر ہوتی تھی اور وہ  اللہ سے اس دوری اور دین  دشمنوں کے اس  تسلط کو  ہی  غربت ، بے روز گاری اور بدامنی کا  اصل سبب بتاتے تھے۔ مگر  آج حال  دیکھیے کہ خود د ینی جماعتوں کے قائدین سیکولرازم کو مسئلہ  تک کہنے کے لیے تیار نہیں   ۔یہی وجہ ہے کہ مذکورہ قائد سے جب پاکستان میں موجود  مسائل کا حل پوچھا گیا تو آپ   نے فرمایا’’ قانون کی   حکمرانی ، وسائل  کی منصفانہ تقسیم  اور کرپشن سے پاک  معاشرہ ‘‘…!!اب یہی حل  تو سیکولر جماعتیں بھی بتاتی ہیں  تو پھر دینی اور سیکولر جماعتوں کے مقاصد میں کیا کوئی  فرق نہیں رہا ؟ افسوس میرے بھائیو! ایک دور تھا جب سیکولرازم اور لادینیت کا خاتمہ  ہی ہماری دینی جماعتوں کا ہدف ہوا کرتا تھا جبکہ آج  اس  جمہوریت  ہی کا ثمرہ ہے کہ  خود  ہمارے دیندار سیکولر ازم کا شکار نظر آ رہے  ہیں ،اور افسوس  کہ یہ تمام تر مداہنت     بھی  دین کی نصرت   کے نام پر ہو رہی ہے  ، اس  تمام  تر باطل سیاست   کے لیے   بھی اصطلاح ’’دعوتی مصلحت  ‘‘ استعمال ہو ر ہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جس مصلحت کی  یہاں بات  ہو رہی ہے  اس کا  دین کے ساتھ کوئی  تعلق نہیں  ہے۔ یہاں اس مقام  پر تفسیر فی ظلال قرآن کے شہید مفسر سید قطب رحمہ  اللہ کا قول نقل کرنا ان شاء اللہ  فائدے سے خالی نہیں ہو گا ، آپ رحمہ اللہ شرعی حدود و قیود سے آزاد  ایسی  دعوتی  مصلحت کے حوالے سے فرماتے ہیں:

’’…’دعوت کی مصلحت ‘ نامی یہ اصطلاح  داعی کو اپنی  لغت  سے مٹانی چاہیے   اس لیے کہ یہیں سے شیطان وار کرتا ہے ، یہاں سے وہ داعی کو پھسلاتا اور گراتا ہے ،یہیں سے شیطان اسے  دعوت  اور دین کے فائدہ  کے نام پر در حقیقت  شخصی  مفاد اور مصالح کا راستہ دکھاتا ہے ، یوں  دعوت کی مصلحت ایسے بت  میں تبدیل ہو جاتی  ہے جس کی پھر   یہ دیندار عبادت کرتے ہیں  جبکہ  وہ اصل دعوت اور واضح  منہج  کو کہیں بھول جاتے ہیں ،داعیان دین  پر  لازم ہے کہ وہ اس دین کی دعوت کے اس  اصل راستے  کے ساتھ جڑیں جو اللہ نے بھیجا ہے، ان پر واجب ہے کہ بس وہ اس منہج پر گامزن رہیں   اور یہ نہ دیکھیں   کہ اس کے نتائج کیا  ہوں گے  ۔اس لیے کہ بدترین  خطرہ جو اس راستے میں آ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ داعی دعوت کے صحیح منہج سے منحرف ہو جائے ،یہ انحراف ہی  اصل تباہی ہے چاہے یہ بڑا ہو یا چھوٹا اور چاہے جس وجہ  سے بھی ہو۔ اس لیے کہ دعوت کا فائدہ اور نقصان اللہ   کے   ہاتھ میں ہے، داعی کو اللہ نے ایسے  کسی فائدے کا پابند نہیں کیا  ہے جس  کا ا للہ نے اسے حکم نہ دیا  ہو  ، داعی کو اللہ نے ایک ہی بات کا مکلف اور پابند کیا ہے اور وہ یہ کہ دعوت کے اصل راستے سے منحرف نہ ہو اور ایک لمحے کے لیے بھی  اس  سے جدا نہ ہو!‘‘

عزیز بھائیو! جمہوری سیاست  میں موجود بھائی اپنے سفر کے کچھ فوائد  گنواتے ہیں اور کچھ کارناموں کا بھی ذکر کرتے ہیں ۔ کیا یہ حقیقت میں   کارنامے ہیں اور اگر بالفرض  یہ کارنامے ہیں تو  کیا ان کا سبب انتخابی سیاست ہے  ؟  اس نکتے پر ان شاء اللہ تیسری  نشست میں بات ہو گی ۔

جزاكم الله خيرًا

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

والسلام علیکم ورحمة الله وبركاته

تیسرا حصہ

جمہوری سیاست

اہل دین  کی  طاقت کا سبب   ہے یا…کمزوری کا ؟!!

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسول الله

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي

عزیز اہل دین بھائیو اور بزرگو!

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

جمہوریت میں اہل دین کی شمولیت کیا  ان کی تقویت کا باعث ہے یا کمزوری کا؟ دوسرا یہ  کہ کیا کوئی  نظام  جمہوریت کے ذریعے سے  تبدیل ہو سکتا ہے؟ ان  دو نکات پر ان شاء اللہ اس نشست میں بات  ہو گی، اللہ اپنی رضا  والے راستے اور  عمل کی طرف ہم سب کی رہنمائی فرمائے، آمین ۔

عزیز بھائیو!

ہمارے دینی سیاسی حلقوں کا موقف  ہے کہ انتخابی سیاست نے   انہیں   تقویت  دی  ہے ۔ وہ  دلیل دیتے ہیں کہ   قرارداد مقاصد اگر   یہاں  پاس ہوئی ہے ، قادیانیوں کو  اگر کافر قرار دیا گیا ہے اور  ۷۳ء کا آئین  وجود میں آیا ہے  ،کہ  جس میں اللہ کی حاکمیت کا اقرار کیا گیا ہے اور  یقین دہانی  بھی  دی گئی ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنے گا، تو یہ سب   کارنامے انتخابی سیاست  کا ثمرہ  ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں  کہ اول تو  یہ سب  کارنامے نہیں ہیں     بلکہ  یہ  اس نظام کے دجل پر مبنی نمائشی   اقدامات ہیں ،اس لیے کہ  ان  تمام تر اقدامات کے باوجود  نفاذ  شریعت  کی طرف  کوئی ایک قدم  آگے نہیں بڑھا یا جا سکا،  بلکہ عملاً ہم وہاں سے بھی کہیں پیچھے چلے گئے ہیں جہاں سے سفر شروع ہوا تھا ۔ کیوں…؟ اس لیے کہ پاکستان کی تاریخ  اور اس کی   موجودہ  صورت حال  شاہد ہے کہ   ان اقدامات  کے سبب  اہل دین کی قوت    تحلیل ہوئی ہے، انہیں  جمہوری بھول بھلیوں میں پھنسایا گیا ہے ، منکرات روکنے اور معروف  رائج کرنے کے میدان میں وہ  آج  مکمل طور پر غیر مؤثر بن گئے  ہیں اور  باطل کی سطوت اور غلبہ  میں پہلے سے  کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے  ۔

عزیز بھائیو و بزرگو!

پہلے ان اقدامات کے نمائشی ہونے پر بات کرتے ہیں ۔ قرارداد مقاصد    کو لیجئے اس میں کہا  گیا ہے کہ  حاکمیت اللہ کو حاصل ہے  اور کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنے گا مگر ۵۶، ۶۲ اور پھر ۷۳ کے آئین  بناتے  وقت اور بعد میں   اس میں ترامیم کے دوران قرآن و سنت کی طرف بالکل التفات  ہی نہیں کیا گیا، کئی اہم  شقیں  قرآن و سنت کے صریح خلاف ہیں ،پھر کئی شقیں ایسے چور دروازے فراہم کرتی ہیں کہ جن کے نتیجے میں یہاں ایسا نظام قانون رائج ہے کہ جو  لادینیت کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور اسلامی شقوں کو عملاً غیر مؤثر کرتا ہے۔ جب    اس تضاد  کا سبب پوچھا گیا تو جواب ملا …کہ یہ قرار داد مقاصد  اور  اسلام مخالف شقیں سب برابر حیثیت کی  ہیں،  کوئی ایک     دوسری  کو ختم نہیں کر سکتی، کسی  ایک کو دوسری شق پر برتری حاصل نہیں ہے،  ہر دو   قسم کو   پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت نے پاس کیا ہے  اور پارلیمنٹ کی  دو تہائی اکثریت  ہی تبدیلی لانے کا حق رکھتی ہے !گویا  کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ، کیا حلال  ہے اور کیا حرام اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے[2]۔اس کا  اس کے علاوہ کیا مطلب ہے  کہ یہاں  اللہ کی حاکمیت نہیں ہے، شریعت  کی حاکمیت نہیں ہے بلکہ دو تہائی  پارلیمنٹ کی حاکمیت    ہے۔  اللہ کے احکامات  کو  ماننے اور انہیں نافذ  کرنے کے لیے یہ  کافی نہیں ہے کہ یہ اللہ کے احکامات  ہیں بلکہ  اس کے لیے اراکین اسمبلی  کی  رضامندی   ضروری ہے ، اگر تو ان کی  خواہش نفس  پر وہ پورے اترے،  اور ان کی طرف سے ان احکامات کو  سند منظوری  عطا  ہوئی تو ٹھیک ہے  قانون بن جائے گا  ورنہ  شریعت کے مقابل ان نام نہاد عوامی نمائندوں کی خواہش ہی یہاں  حاکم ہو گی  ۔قادیانیوں کا معاملہ   دیکھیے ،قادیانی    زندیق ہیں ،  اسلام کے نام پر اپنا کفر پھیلا تے ہیں اور  شرعاً انہیں اسلامی ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں  مگر یہاں  انہیں  کافر قرار دیا گیا   اور اقلیتوں کے حقوق سے نواز کر ان کی بھر پور حفاظت کی گئی ۔ آج وہ اپنے علاوہ سب کو کافر کہتے ہیں ، ا ہم حکومتی مناصب پر فائز ہیں اور  کھلم کھلا اپنا یہ  کفر اسلام کے نام پر پھیلا رہے ہیں  ۔غرض یہ تمام   اقدامات دراصل اسلام کے ساتھ مذاق اور  اہل دین کے ساتھ  دھوکہ ہیں اور اس دھوکے کا مقصد اس کے سوا کوئی  نہیں  کہ اس کے ذریعے سے اہل دین کو نظام باطل  کا وفا دار   و   محافظ بنا یا جائے   اور  نفاذ اسلام اور    منکرات روکنے  کی کسی بھی  سنجیدہ تحریک سے انہیں روک دیا جائے[3]۔

عزیز بھائیو! یہ حقائق ہیں  مگر  بات آگے بڑھانے کی خاطر…اگر  بالفرض  ہم مان  بھی لیں کہ  یہ اہل دین کی فتوحات  ہیں  تو  سوال  یہ ہے کہ کیا یہ  فتوحات آپ کو انتخابی سیاست  نے دی ہیں ؟ آپ نے  زیادہ ووٹ لیے  ، تو آئین ان  شقوں سے مزین  ہوا، یا معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے ؟ ،حقیقت  یہ ہے کہ یہ برائے نام تبدیلیاں بھی اس وقت آپ لا سکے جب آپ عوام کو نہی عن المنکر  کے  عنوان سے  سڑکوں پر  لے آئے ،انہوں نے نفاذ شریعت کی خاطر  گولی اور لاٹھی کھائی اور  حکمرانوں  کے راستے میں وہ   رکاوٹ بنے ۔  ان کامیابیوں کا باعث  پارلیمنٹ میں آپ کی  عددی قوت نہیں   تھی  ، بلکہ  پارلیمنٹ سے باہر   آپ کی یہ احتجاجی    مزاحمت  ہی تھی کہ  جس سے حکمران  طبقہ کچھ دو کچھ لو  پر مجبور ہوا۔ قرارداد مقاصد جب ۱۹۴۹ء   میں پاس   ہوئی تو اس وقت آپ    کی کتنی سیٹیں تھیں ؟ اس وقت تو دستور ساز اسمبلی میں    آپ کے پاس صرف ایک سیٹ تھی  ۔  ۱۹۷۳ ءکا آئین    بنا تو اس  وقت آپ کی   جماعتیں بدترین شکست سے دوچار تھیں ،   اس وقت نظام مصطفی   کے نفاذ کے نام سے آپ نے  نہی  عن المنکر  کی جو تحریک چلائی تھی  اس کا خوف  ہی تھا کہ آئین میں یہ  اسلامی دفعات شامل کی گئیں …اور یہ دفعات کس کے ہاتھوں شامل ہوئیں؟   کس  نے  ۷۳  ءکا یہ  نام نہاد اسلامی  آئین  منظور   کروایا؟  اس دھوکے کی ’سعادت ‘ اس وزیر اعظم اور اس  کی پارٹی کو حاصل ہے  جس  کی دین دشمنی اور مکاری  پر آپ سب  متفق ہیں۔ اس طرح قادیانیوں کو جب کافر قرار دیا گیا تو اس وقت  پارلیمنٹ میں آپ  کی کتنی تعداد تھی !؟اس وقت  آپ کی تعداد برائے نام تھی ،مگر  آپ  کا مطالبہ مانا گیا ، اسمبلی کے اندر آپ کے  نظریاتی و سیاسی مخالفین نے     آپ ہی  کے حق میں ووٹ ڈالے۔ اب   آپ بتائیں، ان  مخالفین نے آپ کی حمایت کیوں کی؟ کیوں آپ کے سامنے  یہ گھٹنے ٹیکے گئے؟ گھٹنے جو ٹیکے گئے  …  تو یہ  ’’ختم نبوت ‘‘ تحریک  کے سبب  اور ’’ختم نبوت ‘‘ کی تحریک بیلٹ بکس کی تحریک نہیں تھی ،یہ صندوقچیوں میں کاغذ ڈلوانے کی  مہم نہیں تھی ،  بلکہ یہ   نہی عن المنکر  کی    تحریک تھی، یہ وہ تحریک تھی     جس میں عوام نے قربانی دی ، خون پیش کیا اور   ایک ایک دن میں کئی مسلمان شہید ہوئے  ۔

دوسری طرف اس کا الٹ  دیکھئے ، ایک وقت ایسا بھی آیا   جب آپ کے پاس    اپنی تاریخ کی سب سے زیادہ سیٹیں  تھیں، 2002ء کے الیکشن میں آپ  نے قومی اسمبلی کی 63 سیٹیں حاصل کیں، سرحد میں مکمل طور پر آپ کی حکومت تھی اور بلوچستان کی حکومت آپ کی    شراکت کے  سبب   قائم  تھی ۔  یہ  ایسی  فتح تھی جو نہ پہلے کبھی ملی ، اور نہ آئندہ اس کا امکان ہے۔ اب  اس وقت  نفاذ اسلام  کی طرف  آپ نے کون سی پیش رفت کی؟  کیا کوئی ایک  قانونی اور آئینی اصلاح  آپ کر سکے؟ …

سچ یہ ہے کہ یہ کامیابی بھی  آپ کو افغانستان پر امریکی حملے اور امارت اسلامیہ کے سقوط کے سبب ملی تھی ، عوام سراپا احتجاج تھی، سرحد ، قبائل اور بلوچستان  کی عوام میں  غم و غصہ  تھا  اور  ان حالات میں  جرنیلوں کے لیے پاکستان کی زمین پر   امریکہ کی خدمت   آسان نہیں تھی ،لہٰذا  اس احتجاج کو  ٹھنڈا کرنا     ضروری تھا،   اسی  فضا میں یہ  الیکشن ہوا ،اس میں  طالبان طرز کی حکومت قائم کرنے  کے وعدے کیے گئے  اور عوام  نے  بھی  اس نعرے  پر آپ کی حمایت کی[4] لیکن    جب آپ ایوانوں میں پہنچے  تو     احتجاج  پھر احتجاج نہیں رہا،  ان پانچ سالوں میں  پھر حکومت اور فوج نے بدترین جرائم کیے ،جس  پارلیمنٹ میں آپ کی بڑی تعداد  تھی ،اس میں   حقوق نسواں    کے تحفظ کے نام سے وہ  بل پاس ہوا جسے خود آپ نے زنا بل کا نام دیا اور جس کی بدولت   زنا بالرضا  عملاً  کوئی قانونی  جرم نہیں رہا،   اسی دوران  بد کاری، فحاشی اور دین بیزاری  کو  میڈیا    میں ترویج   ملی، لبرل ازم اور روشن خیالی کے مظاہرے  ریاستی سرپرستی میں ہونے لگے ، پاکستانی فوج امریکہ کی دست و بازو بنی،  یہاں ہر اہم شہر میں سی آئی اے کے مراکز قائم ہوئے ، شہر شہر  امریکیوں کے ہاتھوں اہل دین کی گرفتاریاں ہونے لگیں،  پاکستان سے افغانستان پر ۵۷ ہزار  فضائی حملے ہوئے، نصرت جہاد کے جرم میں قبائلی مسلمانوں  پر آگ و بارود کی بارش   شروع ہوئی  ، نیٹو کنٹینرز ہماری سڑکوں سے   ہماری حفاظت میں افغانستان جانے لگے ،  لال مسجد کا وہ  اندوہناک واقعہ ہوا جس میں ہماری بہنیں اور بیٹیاں فاسفورس بموں سے جلائی گئیں، مگر  اس سب کچھ کے راستے میں کیا  آپ  کوئی   ایک رکاوٹ کھڑی کر سکے؟  ایک  مکمل خاموشی تھی ،کیوں ؟ سبب واضح ہے ، پارلیمنٹ کی یہ سیٹیں   تھیں جو ہاتھوں کی ہتھکڑیاں اور پاؤں کی بیڑیاں ثابت ہوئیں  ۔ وزارتوں اور سیٹوں کے سبب زبانوں تک پر تالے  لگ گئے   ۔ یوں   منکر روکنے اور باطل کے سامنے ڈٹنے کی جو  طاقت تھی  وہ   باطل کے سامنے مداہنت ، پھر  مفاہمت اور  بالآخر تعاون میں تبدیل ہو گئی……

یہ اس جمہوری راستے کے  حقائق  ہیں اور  ان جیسے دیگر سب حقائق واضح  کرتے ہیں کہ اہل دین کی طاقت  جمہوری  سیاست میں  بالکل نہیں ہے ، جمہوری  سیاست  وہ قوت دیتی نہیں بلکہ چھینتی ہے    جس سے  دین کا دفاع ہو اور بے دینوں اور دین دشمنوں کا راستہ روکا جا سکے ۔ اس کے برعکس   عوام کو  نیکی  کے دفاع میں اٹھانا، منکر کے راستے میں حائل کرنا  اور انہیں قربانی کے بے لوث جذبے سے سرشار رکھنا  یہ  وہ عمل ہے جو دینی جماعتوں کو بغیر کسی شک و شبہ کے    طاقت  بخشتا ہے۔

عزیز بھائیو!

پھر دنیا بھر کی تاریخ دیکھیے ، یہ ایک حقیقت ہے کہ جمہوریت کے اندر انتقال اقتدار  ہوتا ہے ، افراد کے چہرے تو بدل جاتے ہیں  مگر   اس سے جبر و قوت  پر مبنی پہلے سے  مسلط نظام  بھی تبدیل ہو ، یہ کبھی نہیں  ہو سکتا ۔نظام کی تبدیلی   ،  یعنی  اوپر سے لیکر نیچے تک مکمل ایک نیا نظام لایا جائے  اور  پہلے سے مسلط  طبقات اور افکار  سے چھٹکارا حاصل ہو، یہ ووٹوں کی گنتی سے نہ کبھی ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے،  اس کے لیے ایک  ایسی قوت  درکار ہوتی ہے ، ایسی طاقت  جمع کرنی  ہوتی ہے جو     باطل  کے  تسلط کو  جڑ سے اکھاڑ پھینکے ۔ اسلامی تاریخ آپ کے سامنے ہے ، سیرت  ہمارے لیے  نمونہ  عمل ہے ، مشرکین مکہ جب حق کی مخالفت پر ڈٹے  رہے اور  غلبہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ   تھے تو آپ ﷺ نے  بالغ رائے دہی سے مکہ  پر فتح نہیں پائی ، آپ ﷺ نے   مدینہ میں قوت جمع فرمائی، بدر  و احد سے گزر ے اور آخر کار   فتح مکہ کا  وہ موقع آیا   جب  رکاوٹ ہٹ گئی اور لوگ جوق در جو ق پھر اسلام میں داخل ہوئے۔

عزیز بھائیو! تکوینی اصول ہے کہ  مخالف قوت کا مقابلہ قوت سے ہوتا ہے،  اللہ  نے امور  کائنات  چلانے کے لیے یہی  اصول مقرر کیا ہے  اور  یہ مسلمان  اور   کافر سب کے لیے   ایک اصول ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عالم کفر میں بھی جو بڑی تبدیلیاں آئی ہیں ، یہ خالی خولی    افکار   یا پرامن جدوجہد سے      نہیں آئیں، افکار کے ساتھ قوت     جب استعمال ہوئی   تو  رکاوٹیں ہٹیں اور تبدیلی آئی۔ انقلاب فرانس کو دیکھیے، یہ وہ واقعہ ہے کہ جس سے وہاں جمہوری نظام قائم ہوا۔ مگر کیا یہ  جمہوری نظام    بھی ووٹوں کی گنتی سے لایا گیا؟ کیا   یہ عدم تشدد کی پالیسی کے سبب یہ   تبدیلی آئی ؟  نہیں ،   مسلط  طبقات  کے ساتھ ٹکرایا گیا ،جانیں  دی گئیں اور تب کہیں جا کر  نیا نظام قائم  ہوا  ۔  ہمارے پڑوس میں رافضی  انقلاب بھی آپ کے سامنے ہے، یہاں  بھی ووٹوں کی گنتی سے  پچھلا نظام  نہیں  ہٹا ، بلکہ  یہ  قوت تھی ، انقلاب  تھا کہ جس کے سبب تبدیلی آئی ۔

ہمارا پاکستانی نظام اگر  وجود میں آیا ہے  تو یہاں سن  ۴۷ء میں   ووٹوں کی گنتی سے   یہ قائم نہیں ہوا،  ۴۷ء میں نظام   بدلا ہی  نہیں ہے  بلکہ   پہلے سے قائم نظام کے اندر   انتقال اقتدار ہوا ہے، اس سال محض چہرے بدلے ہیں،   نظام وہی  کا وہی رہا ، فوج، تعلیم ،سیاست اور قانون سارا نظام  وہی انگریزی  رہا۔ نیا نظام  اگر برصغیر میں  قائم ہوا ہے تو یہ  انگریزوں نے  قائم کیا ہے، اور  انگریز  نے افہام و تفہیم ،مذاکرات  یا  پر امن ذرائع    سے   اپنا نظام قائم نہیں کیا۔  اس  نے  قوت  و طاقت کا استعمال کیا، بندوق اور بارود سے ہر اس رکاوٹ کو گرا پھینکا جو اس کے راستے میں حائل ہوئی اور تب کہیں جا کر  اپنا  نظام ہمارے او پر مسلط کر سکا ۔ لہٰذا مقصد ہمارا یہ ہے کہ یہ عقل ، تاریخ اور اسلام  ہر پیمانے سے بالکل  غلط بات  ہے  کہ جبر و طاقت  کی بنیا د پر کوئی   باطل نظام مسلط  ہو ، پھر وہ جمہوری  جدو جہد کے ذریعے تبدیل ہو اور اس کی جگہ   اس کا   بالکل الٹ  رحمانی عدل پر مبنی اسلامی  نظام قائم ہو ۔

عزیز بھائیو! اب ایسے میں  آپ  کا کوئی خیر خواہ  آپ کو نظام باطل ہی کی کھینچی گئی  ان لکیروں پر حرکت کرنے ،   جمہوریت ہی  کے ساتھ چمٹنے اور اسی  کا  ساتھ  وفا دار  رہنے کی تاکید اگر  کرتا ہے ، تو  انتہائی معذرت کے ساتھ  ہم عرض کریں گے کہ  ایسے  ناصحین  اس نظام باطل  کی عظمت اور غلبے کو ایک  مسلم  حقیقت کے طور پر   تسلیم کر چکے ہیں  اور ہمیں خدشہ ہے کہ ان کے دلوں میں خیر  کے فروغ اور شر  کی  روک تھام کا   عزم بھی شاید اب  نہیں رہا ہے، یہ عزم اور ارادہ  اگر ہوتا تو حقائق تسلیم کیے جاتے اور بصیرت و بصارت کی بنیاد پر صحیح    راستہ اپنایا جاتا۔

اب عزیز بھائیو! حل کیا ہے ؟ شریعت کو کیا مطلوب ہے اور  وہ  کیا طریقہ کار ہو سکتا   ہے کہ جس پر چل کر ہم  خود بھی بے دینی سے  بچ سکیں  اور اپنی   قوم کو  بھی  شریعت کی برکتوں سے بہرہ ور   کر سکیں ۔ اس موضوع پر ان شاء اللہ  اگلی   اور  آخری نشست میں بات ہو گی ۔

جزاكم الله خيرًا

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

والسلام علیکم ورحمة الله وبركاته

 

آخری حصہ

مطلوب  اور   آسان   راہ  عمل …!

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسول الله

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي  وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي  يَفْقَهُوا قَوْلِي

دینی سیاسی جماعتوں سے وابستہ  عزیز بھائیو اور بزرگو!

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

اللہ سبحانہ و تعالی کا فرمان  مبارک ہے: وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا (اور ان سے کہو کہ) ’’یہ میرا راستہ سیدھا ہے ‘‘ (یعنی یہ اسلام کا رستہ، یہ شریعت کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے) فَاتَّبِعُوهُ’’پس اسی پر چلو‘‘ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ’’ اور دوسرے راستوں پر مت چلو ورنہ وہ تمہیں اللہ  کے راستے سے الگ کر دیں گے‘‘ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ ’’یہ وہ باتیں ہیں جن کی تمہیں تاکید کی جاتی ہے ‘‘لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ’’تاکہ تم متقی بنو‘‘…رسول اللہﷺ کا فرمان ہے : “قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ”’’ میں نے تمہیں  روز روشن کی طرح واضح  راستے پر چھوڑا ‘‘ “لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا” اس کی رات ، اس کے دن کی طرح روشن ہے‘‘……میرے عزیزو! اللہ کا دین ، اللہ کی شریعت اور  اس شریعت کے مطالبے  اور تقاضے سب  واضح ہیں…یہ روز روشن کی طرح عیاں ہیں ،اب  اللہ کے اس  دین میں ، اس کی اس  شریعت میں اس جمہوری  سیاست کی کیا کوئی گنجائش ہے یا نہیں  ؟ پھر اس جمہوری سیاست  کے جو عواقب ہیں ،وہ عواقب  جن  کے ہمارے  اہل دین  یہاں شکار ہیں اور پوری قوم جن کا خمیازہ بھگت رہی ہے، کیا یہ  دین ان کا متحمل ہو سکتا ہے؟ ہمارا موقف آپ جانتے ہیں  ۔ لیکن  اس سب کچھ  کے باوجود   بھی اگر کوئی ہم سے موافقت نہیں کرتا تو  ان کی خدمت میں ہماری گزارش ہو گی  کہ (اسْتَفْتِ قَلْبَكَ[5])  اپنے دل سے پوچھئے ،(وَاسْتَفْتِ نَفْسَكَ[6]) اپنے آپ   سے فتوی مانگیے،   کیا  آپ کو یقین ہے کہ یہی سیاست اور  آپ کی   یہی جدو جہد  اسلام  کو مطلوب ہے ؟  کیا  اسی پر چل کر  اللہ کا دین غالب ہو گا اور دین دشمن    اسی  سے مغلوب ہوں گے  ؟ کیا آ پ مطمئن ہیں  کہ اسی پر چلتے ہوئے اللہ کی شریعت پر عمل ہو رہا ہے؟ واللہ اعلم ،کیسے کسی کا دل مطمئن  ہو سکتا ہے اور جب دل مطمئن نہیں ہو  تو ایسے مشتبہ امور کے بارے میں   آپ ﷺ کا فرمان  ہے : وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ،(گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے) وَإِنْ أَفْتَاكَ عَنْهُ النَّاسُ[7] (اگر چہ فتوی دینے والے تمہیں اس کے جائز ہونے  کے  فتاوی بھی   دیں) اور آپ ﷺ کا فرمان مبارک ہے۔دَعْ مَا يُرِيبُكَ إِلَى مالا يُرِيبُكَ[8](جو تمہیں شک میں ڈالے اس کو چھوڑ دو اور جس کے صحیح ہونے پر  تمہیں یقین ہو اسی  کو پکڑو!) ، لہٰذا آپ بھائیوں سے  ہماری پہلی گزارش یہی ہے، کہ اس جمہوریت کے  حقائق و عواقب  اور شریعت کے مطالبات و تقاضے  سب سامنے رکھ کر اپنا محاسبہ کیجئے،  اس لیے کہ ہم سب نے    اس دن کی طرف  آگے بڑھنا ہے کہ جس کے بارے میں اللہ  سبحانہ و تعالی کا فرمان ہے: يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ ’’ اس دن انسان کہے گا کہ ہے کوئی ایسی جگہ جہاں وہ  بھاگ  جائے؟‘‘  كَلَّا لَا وَزَرَ’’نہیں پناہ کی کوئی جگہ نہیں ہو گی‘‘إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ ’’اس دن تمہارے رب کے سامنے ہی  ٹھہرنا   ہو گا‘‘ (اسی  کے سامنے ہی  کھڑا ہونا ہو گا ))يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ’’اس دن انسان کو بتلایا جائے گا کہ اس نے کیا اعمال آگے بھیجے ہیں اور کیا پیچھے چھوڑے ہیں‘‘ بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ ’’بلکہ انسان  اپنے آپ  کو خوب اچھی طرح جانتا ہے‘‘وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ ’’ اگر چہ وہ جتنے بھی بہانے بنائے ‘‘…لہٰذا  عزیز بھائیو! ہم میں سے ہر ایک اپنی آخر ت کا سوچے ،  ہر ایک نے جب اللہ کے سامنے اکیلے کھڑا ہونا ہے  تو یہاں  تنہا  اپنی نجات کا   پہلے سوچے اور اس کے بعد پھر   اپنی اولاد، ساتھیوں اور قائدین  کی فکر کرے۔

اگلی  بات یہ ہے عزیز بھائیو اور بزرگو کہ جب ہم جمہوری سیاست  پر رد کرتے ہیں، اور اسے چھوڑنے  پر زور دیتے  ہیں تو فوراً کہا جاتا ہے کہ یہ استطاعت سے بڑھ کر بوجھ اٹھانا ہے  اور یہ مجاہدین  ہتھیار اٹھا کر اپنا ہی سر پھوڑ نے  کا ہمیں درس   دیتے ہیں ۔ تو سوال یہ ہے میرے محترم بھائیو! کہ  کیا یہ حقیقت نہیں   ہے کہ  قوت  ،  ظلم اور جاہلیت پر مبنی طاقت کا مقابلہ  کبھی اس کے سامنے  جھکنے سے نہیں  ہوا ؟ باطل کی  کھینچی گئی لکیروں پر حرکت کر نے اور اس کے  قوانین  کا وفادار  رہنے   سے باطل  کا تسلط کبھی  ختم نہیں ہوا ۔جاہلیت کے مقابل اسلام کا دفاع اور اس کا  غلبہ جاہلیت ہی  کے ساتھ سمجھوتہ کرنے  اور اس کے شروط قبول کرنے سے اگر ہوتا تو یہ جہاد  فرض  نہ ہوتا، وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ اور کتب علیکم القتال   سمیت  یہ  سینکڑوں  آیات جہاد نازل نہ ہوتیں  اور رسول اللہ ﷺ   دعوت و تبلیغ  کے ساتھ ساتھ  ہجرت و جہاد کے راستے پر نہ نکل  پڑتے، لہٰذا  عزیز بھائیو! واللہ وہ لوگ خوش نصیب ہیں  جو طواغیت عصر   کی آنکھوں کا کانٹا بنتے ہوں اور اللہ کی پکار’’انفرو خفافا وثقالا‘‘   پر لبیک  کہہ کر میدان جہاد میں اترتے ہوں  ،مگر ایسے میں   یہاں کوئی کہہ سکتا ہے کہ  ہم میں استطاعت نہیں ہے اور  استطاعت سے بڑھ کر بوجھ  کب کوئی کسی پر   ڈال سکتا ہے؟  تو    یہاں میرے بھائیو ایک سوال عرض کرتا ہوں …اگر بالفرض    باطل کے خلاف لڑنے  کی قوت  ہم میں نہ ہو تو کیا پھر   باطل  کا سپاہی بننے اور اس کے رنگ میں رنگنے کی   یہاں  کوئی گنجائش موجود ہے ؟کیا  ضعف اور کمزوری  کے اس  وقت  میں   نظام  باطل کے  وفادار بننے  اور جاہلیت ہی  کا  علمبر دار  رہنے کی کیا یہ  دین     اجازت دیتا ہے؟   کیا  یہاں بس   دو ہی راستے بچتے    ہیں ، اس نظام  باطل کے خلاف ہتھیار اٹھاؤ اور اگر اس کی استطاعت  نہ ہو تو پھر   نظام باطل ہی   کا ہتھیار بن جاؤ، اس  سے بھر پور فوائد سمیٹو ، اس کے نغمے گاؤ، اس کے پیچھے اس کی

 

التحميل