غزوۂ ہند کے سپاہی – فیصل اشفاق بٹ – حفظه الله

شارك هذا الموضوع:

غزوۂ ہند کے سپاہی!

سرینگر سے تعلق رکھنے والے مجاہد ’فیصل اشفاق بٹ‘ کی آپ بِیتی

 

التحميل

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! میرا نام فیصل اشفاق بٹ ہے اور میرا تعلق مقبوضہ کشمیر کے علاقے سرینگر سے ہے۔

آج میں کچھ اپنا حالِ دِل اور اپنی جہادی زندگی کا (باذن اللہ) احوال آپ کے سامنے بیان کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھے حق بات کہنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔

جیسا کہ میں نے کہا، میری پیدائش جموں و کشمیر کے مرکزی شہر، سرینگر میں ہوئی اور میں وہیں پر پلا بڑھا۔ تو ہم بچپن سے کبھی کرفیو، کبھی دکانوں اور مالوں کی لوٹ مار، کبھی اپنی عزت مآب ماؤں اور بہنوں کی آبرو ریزی اور کبھی اپنے نوجوان حریت پسند بھائیوں اور آزادی کےمتوالے اپنے بزرگوں کو لاٹھیوں سے پِٹتا اور جیلوں میں جاتا دیکھ رہے تھے۔ ہندوستانی فوجی، خفیہ ایجنسیوں والے اور پولیس جس کو چاہتے، شک کی بنیاد پر اٹھا کر لے جاتے۔ ٹارچر سیلوں کی روح فرسا کہانیاں ہر جگہ عام تھیں۔

ہم پندرہ سولہ سال کے تھے اور یہ ۱۹۹۲ء کا وقت تھا کہ ہمارے دل میں اس سب ظلم و ستم اور نظامِ باطل کے خلاف انتقام لینے اور نظامِ اسلامی کی بہاریں دیکھنے کی تڑپ پیدا ہوئی، ایک ایسا نظام جس میں مظلوم کو اس کا حق دیا جائے اور ظالم کا ہاتھ روکا جائے، جہاں کوئی غم نہ دیکھے۔ لیکن اس وقت تک ہمارے سامنے کوئی واضح راستہ نہ تھا۔پھر ہم کالج میں پڑھتے تھے اور بی ایس سی کر رہے تھے کہ ہمارے کانوں سے اس ظلم سے نجات کی اصل دعوت ٹکرائی! جو راہ واضح نہیں ہو رہی تھی وہ اس دعوت کے ملنے سے کھل گئی۔

بیان کرنے والے نے قرآنِ کریم کی یہ آیت ہمارے سامنے بیان کی:

وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيراً ؀ (سورۃ النساء: ۷۵)[1]

کہا گیا تھا کہ تم کیوں نہیں لڑتے اللہ کے راستے میں ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے جو پکارتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ نکال ہمیں اس بستی سے جس کے لوگ ظالم ہیں اور بنا دے ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی دوست اور بنا دے ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مدد کرنے والا … اس آیت میں فرمایا گیا تھا کہ تم کیوں نہیں لڑتے اللہ کے راستے میں؟ بس اللہ کے راستے کے لیے سب کچھ کرنا، اسی کی خاطر جینا اور مرنا… یہ الفاظ ہمارے لیے بنیاد بن گئے، مشعلِ راہ بن گئے! نظریہ بن گئے!

ہم کیا چاہتے ؟ آزادی! ہندوستان کے ظلم سے، ہندوستان کی ظالم حکومت سے آزادی! ہر نا انصافی سے آزادی! انسانوں کی غلامی سے آزادی! انسانوں کے بنائے نظاموں سے آزادی! سیکولر ازم، نیشنل ازم، ڈیموکریسی، کمیونزم… ہر ازم سے آزادی!

بندوں کی غلامی سے نکل کر اللہ کی غلامی میں آنے کی آزادی! اصل آزادی تو اللہ کی غلامی ہی ہے۔ ایسی غلامی جو ہر غلامی سے آزادی دلا دے! اللہ کی غلامی، اللہ کی شریعت کی فرماں برداری۔ اسی اطاعتِ خداوندی میں نفاذِ شریعت کی محنت، جہادِ فی سبیل اللہ… جس کا مقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہو… اللہ کے سوا کسی اور کی رضا مقصود نہ ہو۔ نہ کوئی فارن ایجنڈا (foreign agenda) ہو اور نہ ہی کسی ایجنسی کی نام نہاد ’جہاد پالیسی‘۔

اللہ کے فضل سے ہمیں شروع ہی میں ایسے رفقاء اور مربّی مل گئے جنہوں نے ہمیں اللہ کے لیے جینے اور اللہ کے لیے ہی مرنے کا نظریہ بخشا۔ مجاہدینِ کشمیر کے قائد و مربّی شہید غازی بابا رحمہ اللہ نے ہمیں ایجنسیوں سے آزاد ہو کر، شریعت کے بتائے ہوئے رہنما اصولوں کے مطابق جہادی سٹریٹیجی، جہادی حکمتِ عملی، جہادی منصوبہ بندی اور شرعی جہادی تربیت کے مطابق جہاد کو کھڑا کرنے کی تربیت دی۔

بانڈی پورہ میں مجاہدین کا ایک مرکز تھا، جسے ہم base کہا کرتے تھے۔ اس مرکز کے امیر، استاد اور مربی غازی بابا تھے۔ یہاں ہم نے سب سے پہلے بنیادی عسکری تربیت حاصل کی اور اسی عسکری تربیت کے ساتھ غازی بابا نے ہمیں کچھ بنیادی دینی اور شرعی تعلیم بھی دی۔ غازی بابا نے ہمیں جہاد کا نظریہ سمجھایا اور جہاد کے مقاصد سے آگاہ کیا۔

اس بنیادی تربیت کے بعد ہماری تشکیل، عسکری کارروائیوں کے لیے سرینگر میں ہی کر دی گئی۔ الحمدللہ ہمیں سرینگر میں کئی کامیاب ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں کرنے کا موقع ملا۔ اسی دوران ہم شہید مجاہد شاکر بخشی رحمہ اللہ کے ساتھ بھی اللہ کے فضل سے کام کرتے رہے۔

اس ابتدائی تشکیل اور پھر آئندہ کے چند سالوں کی تشکیلات میں ہم نے عسکریت، تربیت اور دعوت کا کام وادی اور اطراف میں جاری رکھا۔ غازی بابا ہمارے امیر تھے اور ہم ان کی قیادت میں یہ سب کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ اللہ کے فضل سے مجھے غازی بابا کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کرنے کا موقع ملا۔ اسی قربت نے ان کی شخصیت اور ان کے نظریات کو بہتر طور پر سمجھنے کا بھی موقع دیا۔

ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں ہوں یا دیگر عسکری کارروائیاں، ان سب میں ہدف کے چناؤ کو بہت اہمیت حاصل تھی۔جس نظریے اور منہج سے واقفیت ہمیں دس سال بعد باقاعدہ طور پر القاعدہ میں شامل ہو کر ہوئی، غازی بابا ۹۰ کی دہائی کے وسط میں، مجاہدینِ کشمیر کو وہ نظریہ دے رہے تھے۔

غازی بابا جنہوں نے وادی میں8 سال سے زائد کام کیا فرمایا کرتے کہ الکفر ملۃ واحدہ، اسلام اور مسلمانوں کےخلاف عالَمِ کفر ایک متحد ملت ہے اور امریکہ ان کا سب سے بڑا سرغنہ ہے۔ لہٰذا کشمیر کی آزادی اور مسلمانوں کو ان کا حق ملنے کے معاملے میں ان سب سے کوئی امید ان کو نہیں تھی۔  بلکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ دنیا بھر کے اندر مسلمانوں پہ مظالم میں یہی ذمہ دار ہے انہی کا سب سے بڑا ہاتھ ہےلہذا جو کچھ بھی کرنا ہے وہ امت مسلمہ اور مجاہدین خود کریں ، یہی وجہ ہے کہ جب نائن الیون کی مبارک کارروائی ہوئی تو غازی بابا بہت زیادہ خوش ہوئے ۔

غازی بابا فرماتے کہ ہندوستان کے اصل چلانے والے برہمن اور ان برہمنوں کی قیادت میں حکومت… لوک سبھا اور راجیا سبھا میں بیٹھے صاحبِ اختیار افراد کو نشانہ بنایا جائے۔ جرنیلوں کو نشانہ بنایا جائے، فوج کے بڑے بڑے افسروں اور پولیس کے سینئر افسروں کو ہدف بنایا جائے۔

القاعدہ کے نظریے کو سمجھنے اور القاعدہ میں شامل ہو جانے کے بعد ہمیں غازی بابا بہت یاد آئے۔ آج بھی مجاہدینِ کشمیر بالخصوص اور برصغیرکے مجاہدین کے لیے غازی بابا کا طریقہ لائقِ پیروی ہے۔

مجاہدینِ کشمیر اپنی مسلمان عوام کی حمایت اور نصرت کے ساتھ اپنا جہاد جاری رکھے ہوئے تھے کہ سنہ۹۸ – ۹۹ ء میں مجاہدین کے درمیان اندرونی اختلافات پیدا ہونا شروع ہو گئے۔ تنظیمیں ٹوٹنے لگیں اور نئی تنظیمیں بننے لگیں۔ بدقسمتی سے مسلکی بنیادوں پر بھی تنظیموں کو کھڑا کیا جانے لگا۔ ان سب اختلافات کے پیچھے بنیادی کردار پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کا تھا۔ ایجنسیوں نے اپنے مفادات کی خاطر ان میں پھوٹ ڈلوائی ، ان ایجنسیوں کے مقاصد کا ذکر ہم ذرا دیر میں کریں گے۔

یہ اختلافات اپنے زور پر تھے اور ہم بھی اس سب کے سبب پریشان تھے۔اس زمانے میں حالات کے سبب ہمارے اور غازی بابا کے درمیان لمبے اور مشکل سفر اور سکیورٹی مسائل حائل ہو گئے اور ہماری ملاقاتوں کی کوئی سبیل نہ رہی۔ ۹۰ء  کی دہائی کے آخر میں ہمیں ایک اور تنظیم کے لوگ ملے اور ان سے ہماری تربیت اور تعلیم کے حوالےسے بات ہوئی اور جہاد کو عسکری اور سٹریٹیجی کے اعتبار سے بہتر کرنے کی غرض سے فنون سیکھنے کے لیے ہم نے پاکستان جانے کا ارادہ کیا۔ پھر ہمارے ذہنوں میں یہ بات تھی کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے تو اس کی طرف ہجرت کرنی چاہیے۔ انہی اسباب سے کافی کوشش کے بعد سنہ 2001ء میں، مَیں نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ پاکستان ہجرت کر لی۔ لیکن یہاں پہنچتے ہی مجھ پر جہادِ کشمیر کی معاون فوج اور آئی ایس آئی کی حقیقتِ حال واضح ہونے لگی اور یہاں کتنا اسلام نافذ تھا یہ بھی نظر آ گیا۔

پانچ دن اور پانچ راتیں مستقل ، شدید سردی میں، چھ چھ فٹ برف سے ڈھکے سخت پہاڑوں پر پیدل سفر کر کے ہم ایل او سی پر پہنچے۔ جس تنظیم سے ہم وابستہ ہوئے تھے، اس تنظیم نے ہمارے لیے ایک guide یعنی رہبر کا انتظام کیا تھا۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ یہ گائیڈ اکثر پاکستانی ایجنسیوں کے لوگ ہوتے ہیں جو پیسوں پر کام کرتے ہیں اور جہاد سے انہیں کوئی ہمدردی نہیں ہوتی ۔ یہ گائیڈ مجاہدین کو راستے میں اس طرح ہانکتے ہیں جس طرح بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کو ہانکا جاتا ہے۔ ان کے ہاتھ میں ڈنڈے ہوتے ہیں اور یہ ہجرت کرنے والے مجاہدین پر ڈنڈے برساتے ہوئے جاتے ہیں۔ ہاں گائیڈز کی ایک قلیل تعداد مخلص مجاہدین پر بھی مبنی ہوتی ہے جو مجاہد ین سے انسانی سلوک ہی کرتے ہیں۔

کشمیر سے پاکستان ہجرت کر کے آنے والے ہزاروں مجاہدین ایجنسیوں کے گائیڈوں اور ان فوجی معاونین کی حقیقت جانتے ہیں اور اس حیوانی سلوک کے گواہ ہیں۔ گائیڈوں کے ڈنڈے کھانے والے، بعض ظالم گائیڈوں کے ہاتھوں ذبح ہو کر شہید ہو جانے والے اور برف میں یوں جسموں کے ٹھنڈے ہوجانے والے مظلومین کل قیامت کے دن ان نام نہاد محسنوں کے گریبان پکڑے ہوئے ہوں گے۔

ہم چھ ساتھی جو یہاں پہنچے تھے تو ان کی بھی حالت یہ تھی کہ پاؤں کے تلووں میں ٹھنڈ کے سبب جان نہیں تھی، کسی کی ایڑی برف سے جل چکی تھی اور کسی کی انگلیاں نہیں تھیں اور خود میں نے جب اپنا بوٹ اتارا تو پاؤں کی انگلیاں تو تھیں مگر ناخن نہ تھےیوں ہم کافی عرصے تک زیرِ علاج رہے ۔

اس کے علاوہ چھ مجاہدین پر مبنی ایک اور مجاہدین کے گروپ کی یہاں پہنچنے کی کہانی یہ تھی کہ گائیڈ اس گروپ کو کئی دن اور کئی رات کا سفر کروا کر بارڈر جب پار کرا چکا تو اس نے انہیں بتایا کہ سامنے پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ ہے اور وہ بارڈر پار کر چکے ہیں۔ یہ سنتے ہی خوشی کے مارے ایک ساتھی جو پاکستانی تھا اور جہاد کی غرض سے کشمیر گیا تھا اور اب واپس لوٹ رہا تھا وہیں برف میں لیٹ گیا کہ اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔ باقی ساتھی چیک پوسٹ میں پہنچے۔ وہاں پاکستان آرمی کا ایک میجر تھا اور اس نے کہا کہ جلدی جلدی کاغذوں میں اندراج کرواؤ کہ تم کتنے لوگ ہو اور کون کون ہو۔ ان ساتھیوں نے تعارف کروایا اور بتایا کہ ہم کل چھ ساتھی ہیں۔ اس نے کہا تم تو پانچ ہو، چھٹا کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ وہ پاکستان پہنچنے کی خوشی میں وہیں برف پر لیٹ گیا ہے۔ اس پر میجر نے بغیر کسی انسانی جذبات کے کہا کہ وہ تو مر گیا ہو گا اور اپنے ایک ماتحت کو آرڈر کیا کہ اس کی لاش اٹھا کر لاؤ۔ جب وہ ماتحت اور اس کے ساتھی واپس آئے تو یہ مہاجر مجاہد واقعی شہید ہو چکا تھا اور اس کی لاش ہی اندر آئی تھی۔ دراصل سردی شدید ترین تھی اور درجۂ حرارت منفی بیس کے قریب محسوس ہوتا تھا۔ ان ساتھیوں کا جسم پیدل چل کر آنے کے سبب گرم تھا اور اس بھائی کے فوراً برف پر لیٹ جانے کے سبب ان کا جسم بالکل ٹھنڈا ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس بھائی پررحم فرمائیں اور شہداء کے ساتھ اس کا معاملہ فرمائیں۔

ابتدائی تجربات سے ہی ہم پر جہادِ کشمیر کے نام نہاد معاونین کی حقیقت واضح ہو گئی۔

مجھے اب سمجھ میں آنا شروع ہوا کہ غازی بابا کیوں پاکستان کی ایجنسیوں کے خلاف تھے اور اسی وجہ سے وہ کشمیر میں ہی معسکرات چلاتے تھے وہیں عسکری تربیت دیتے تھے، چاہے یہ عسکری تربیت وسائل اور مہارتوں کے اعتبار سے کم ہی کیوں نہ ہوتی۔ جو ساتھی غازی بابا کو جانتے ہیں اور جو اب بھی حیات ہیں وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ غازی بابا ایجنسیوں سے بیزار تھے، پھر ہمارے شہید بھائی افضل گورو نے بھی اپنی کتاب ’آئینہ‘ میں جا بجا اس کا ذکر کیا ہے۔

بہر کیف ہم یہاں آنے کے بعد ایک بیچ کی کیفیت میں پھنس گئے تھے اور اللہ سے دعا مانگا کرتے تھے کہ وہ ہمارے لیے راستے کھول دے۔ اور ہماری یہ دعائیں قبول بھی ہوئیں ، الحمدللہ۔

بلا شبہ ان تنظیموں میں تب بھی اور اب بھی بڑی تعداد مخلصین کی ہے۔ ایسے مخلصین جو ان مکار ایجنسیوں کو اسلام کے لیے کوشش کرنے والا سمجھتے ہیں۔ اگر ان مخلص مجاہدین کی بات کی جائے تو یہ حضرات ایجنسیوں کے سامنے مجبور ہیں۔ ایجنسیوں نے ان کو گھیر رکھا ہے، ان کو پھنسا رکھا ہے ہم نے ان تنظیموں کو ایجنسیوں کے ہاتھوں یرغمال دیکھا ہے، ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ میں خود اس بات کا گواہ ہوں بلکہ شریکِ کار تھاکہ سنہ ۲۰۰۵ میں جب ہم پاکستان میں تھے اور یہاں کی ایک کشمیر میں کام کرنے والی تنظیم کے ساتھ تھے تو ہم نے غازی بابا والے اہداف پر کام کرنا چاہا… سب کچھ تیار تھا، پوری ترتیب، پوری setting ہو چکی تھی، اسلحہ تک پہنچا دیا گیا تھا لیکن…عین آخری وقت میں ہمیں یہاں تنظیم کے ذمہ داران نے کہا کہ یہ کام ہم نہیں کرنے دے سکتے ، ایجنسیوں کی طرف سے اس کی اجازت نہیں ملے گی کیونکہ اس کارروائی سے ہمارے ملک کی سیاسی حالت خراب ہوجائے گی اور وہ کہیں گے کہ اس سے پاکستان میں مسائل پیدا ہوں گے۔ ایجنسیوں کے نزدیک ہدفِ جہاد اعلائے کلمۃ اللہ اور قاتلوا أئمۃ الکفر[2] کے بجائے ملکی مفاد، فارن پالیسی ہے۔

جب کہ ہم دیکھتے ہیں افضل گورو اور غازی بابا جیسے مجاہدوں کے نمایاں اہداف میں سے ایک ہدف انڈین پارلیمنٹ تھا۔ اس میں بھی اسی حکمتِ عملی کو ملحوظ رکھتے ہوئے بطورِ ہدف چنا گیا جس کے متعلق ہم پہلے عرض کر چکے ہیں۔ میں اس وقت ان کے ساتھ تو نہ تھا، لیکن جتنا قریب سے میں غازی بابا کو جانتا ہوں تو میرا یہ تجزیہ ہے، میرا اندازہ ہے کہ اس کارروائی میں پہلے خیال سے لے کر ہدف کو نشانہ بنانے تک ان دو عظیم مجاہدوں نے ایجنسیوں سے کچھ بھی مدد نہیں لی اور نہ ہی ان کو اس کی خبر ہونے دی۔ ورنہ شاید یہی پاکستانی ایجنسیاں اور ان کے نام نہاد محسن اس کارروائی کو ناکام بنوا دیتے۔ آپ دیکھیے کہ انڈین پارلیمنٹ پر حملے میں کون کون ہدف تھا؟ چند چیدہ چیدہ ناموں میں، اس وقت مسلمانوں کا بدترین دشمن ہوم منسٹر ایل کے ایڈوانی، وزیرِ دفاع ہرین پاٹھک، انڈین نائب صدر کِرِشن کانت جیسے لوگ شامل تھے اور یہ سب لوگ اس وقت انڈین پارلیمنٹ کے اندر ہی موجود تھے!

ہم نے عملاً تجربہ کیا۔ کشمیر میں ہم سنتے تھے کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور ہم ایجنسیوں کو جہاد کا انصار و مددگار جانتے تھے، لیکن یہاں پاکستان آ کر ہمیں براہِ راست تعامل پر معلوم ہوا کہ یہ صرف جرنیلوں کے بین الاقوامی دوروں، بینک بیلنسوں اور strategic depthکی پالیسی ہے، کوئی جہاد نہیں ہے۔

ایجنسیاں بالکل اسی طرح کشمیری جہادی تنظیموں کو استعمال کرنا چاہتی ہیں اور کر رہی ہیں جیسے اپنے جرائم اور کالے کرتوت چھپانے کے لیے اس فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اس وقت کے مشرقی پاکستان اور بعد کے بنگلہ دیش میں … ۱۹۷۱ میں اہلِ دین کی جہادی تنظیموں کو استعمال کیا، اور وہاں کے اہلِ دین آج تک اس کا ساتھ دینے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور پھانسیوں پر چڑھ رہے ہیں۔ خود اس اسٹیبلشمنٹ نے وقت آنے پر ۹۰ ہزار فوج ہونے کے باوجود ہتھیار ڈال دیے۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ اپنے مقاصد ہیں، فارن ایجنڈا ہے، ہندوستان پر پریشر رکھنا چاہتی ہے، ایک گیم ہے، پالیسی کا حصہ ہے۔ اس طرح کے مقاصد کے حصول کے لیے ان کو ہیومن ریسورس کی ضرورت ہے، فُٹ سولجرز چاہییں۔ اس سب کے لیے انہوں نے ایک ایسے کاز کا سہارا لیا جس پر امتِ مسلمہ کے غیور نوجوانوں کو استعمال کیا جا سکے۔ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ اللہ ان ایجنسیوں کے مَکر کا پردہ فاش کریں اور ہمارے ان تنظیموں میں موجود مجاہد بھائیوں کے لیے آسانیاں کریں اور راہیں کھول دیں اور ہمیں اور انہیں اکٹھا فرما دیں۔

 میں کہتا ہوں کہ جرنیلوں کی سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ ان جرنیلوں کا مقصود اپنے مفادات کی آبیاری ہے۔ ان کو اگر جہاد میں مفاد نظر آئے تو یہ ایل او سی کھول دیتے ہیں اسلحہ، بارود، افراد سب کا آنا جانا legal ہو جاتا ہے۔

میں مثال کے طور پر ایک خائن اور غدار جرنیل… پرویز مشرف ہی کی مثال پیش کرتا ہوں۔ کارگل کی جنگ میں سیاچن جیسے دنیا کے سخت ترین محاذ پر مجاہدین کو فٹ سولجر بنایا، جنگ کی حکمتِ عملی غلط تھی، تو ان مجاہدین کو بے آسرا چھو ڑ دیا ۔ زبان سے پھر بھی ان مجاہدین کی حمایت کرتا رہا۔ پھر اسی نے یو ٹرن لیا اور کل کے مجاہد ، دہشت گرد قرار دے دیے گئے۔ پھر تقریباً دس سال جب مزید گزر گئے تو یہی پرویز مشرف ایک بار پھر انہی مجاہدین کو فریڈم فائٹر کہتا دکھائی دیا۔ بلکہ دو تین سال پہلے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں اس نے بعض تنظیموں کا نام لے کر کہا کہ وہ جہادی ہیں، میں ان کا حامی ہوں، یہ فریڈم فائٹر ہیں اور یہ جہادی تنظیمیں ہماری بہترین این جی اوز ہیں۔ ان جرنیلوں کے ہاں کوئی چیز اہم ہے تو بس اپنا مفاد اور اپنا اقتدار۔

سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی فوجی افسروں کے درمیان گفتگو میں کہتا ہے:

’’ نائن الیون کے واقعے  نے مکمل طور پر  کئی پیمانوں (equations ) کویا تو بدل دیا ہے یا انہیں دوسری شکل دے دی ہے۔ہم نائن الیون سے قبل اور اس کے بعد کے معاملات کو پرکھنے کے لیے ایک ہی انداز کا فہم نہیں رکھ سکتے۔ جسے نائن الیون سے پہلے ’’جد و جہدِ آزادی‘‘ کہتے تھے، نائن الیون کے بعد اسے کچھ اور کہتے ہیں (دہشت گردی)! ہم اب  بھی یہی سمجھتے ہیں کہ کشمیر میں جاری جدو جہدِ آزادی…  آزادی کی جد و جہد ہے۔ لیکن اگر آپ کو کسی کی حمایت  حاصل نہ ہو تو آپ کو حالات کے مطابق بدلنا؍ موافق ہونا پڑتا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں  ہے کہ  ہم نے کشمیر کی جد و جہدِ آزادی کو تنہا کیا ہے کیونکہ یہ ہمارے ’قومی مفاد‘ میں ہے!‘‘

جنرل کیانی کہتا ہے کہ ہم نے کشمیر جہاد کو abandon کیا ہے… تنہا کیا ۔ چھوڑ دیاہے!کیوں؟ اس لیے کہ اب وہاں مفاد وابستہ نہیں رہا!

اس جہاد کے سچے خیر خواہ یہ جرنیل اور آئی ایس آئی کے کوئی میجر  حمزہ، کوئی بریگیڈئیرریاض یا ان جیسے جعلی نام نہیں بلکہ غازی بابا، بھائی افضل گورو، کمانڈر الیاس کشمیری، انجنیئر احسن عزیز اور کمانڈر برہان مظفر وانی جیسے مجاہد ہیں۔

سچی بات یہ ہے کہ جہاد کشمیر کے لیے خیر خواہ افراد اور زرخیز فضائیں یہاں افغانستان کی فضائیں ہیں، یہاں موجود امارتِ اسلامیہ کی قیادت میں مصروفِ جہاد جماعتوں میں القاعدہ برِّ صغیر ہے۔غازی بابا ، افضل گورو اور برہان وانی کے نظریے کی امین یہ جماعت ہے جس کی آبیاری کشمیر اور پھر افغانستان میں لڑنے والے  شیخ الیاس کشمیری، شیخ احسن عزیز،  کماندان بدر منصور، شیخ حاجی ولی اللہ، قاری عمران، مولانا سعید اللہ، کماندان افضل، کماندان خرم سعید کیانی، رانا عمیر افضال[3] اور ان جیسے کئی دیگر مجاہدین کے لہو نے کی ہے۔ پس غازی بابا اور افضل گورو جیسے عظیم مجاہدین کی تربیت اور نظریہ ہمیں القاعدہ میں لے آیا، وللہ الحمد۔

ہم یہاں کے مجاہدین میں عموماً اور قائدینِ جہاد میں خصوصاً کشمیر کی آزادی اور وہاں شریعت کے نفاذ کی تڑپ دیکھتے ہیں۔ مجاہدین یہاں اپنے کشمیری بھائیوں سے ملنے کو بے چین ہیں اور عنقریب وہ کشمیر میں اپنے بھائیوں کے ہم رکاب ہوں گے۔ کشمیری مورچوں میں بیٹھ کر وہاں کے ظالم برہمن اور وہاں کی ظالم فوج اور پولیس کو نشانہ بنائیں ۔ وہاں کی دھواں دھواں فضاؤں کو ایک بار پھر خوش گوار بنائیں۔ نفاذِ شریعت کی مبارک محنت کا پرچم وہاں بلند ہو۔ وہاں کسی بیٹی، ماں اور بہن کی عزت کو لوٹنے کے لیے کوئی ناپاک ہندو آگے نہ بڑھے، کسی عزت دار خاتون کے دوپٹے پر سنگینوں کا وار نہ ہو! یہاں کے مجاہدین وہاں کی جھیل ڈل میں پھر کسی کشمیری مسلمان کی لاش کو تیرتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہاں مجاہدین اپنے مظلوم مسلمان تاجروں سے ہندو بنیے کے ہاتھوں لوٹ کھسوٹ کا بازار بند کرنا چاہتے ہیں ۔

مجاہدینِ اسلام کشمیر اور برِّ صغیر، پیر پنجال کی چوٹیوں، لاہور کے شاہی قلعے اور دِلّی کے لال قلعے میں اسلامی علم کو ایک بار پھر لہرانے کے لیے، غزوۂ ہند لڑنے والا مبارک لشکر بن کر روانہ ہو چکے ہیں!

و صلی اللہ علی النبی و آخر دعوانا ان الحمدللہ ربّ العالمین۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

[1] ترجمہ: ’’ اور (اے مسلمانو) تمہارے پاس کیا جواز ہے کہ اللہ کے راستے میں اور ان بےبس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اس بستی سے نکال لایئے جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کردیجیے، اور ہمار لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار کھڑا کردیجیے۔ ‘‘

[2] کفر کے اماموں ؍ قیادت کے خلاف جنگ کرو۔

 

[3] میادینِ جہاد میں موجود مجاہدین رانا عمیر افضال رحمہ اللہ کو ’شیخ مصطفیٰ عبد الکریم‘، ’حسین‘ اور ’مزمّل‘ کے رمزی ناموں سے جانتے ہیں

 

التحميل