ذاکر موسیٰ… ایک عزم، ایک تحریک!

شارك هذا الموضوع:

ذاکر موسیٰ… ایک عزم، ایک تحریک!
مسلمانانِ کشمیر کے مجاہد قائد ذاکر موسیٰ (رحمه الله) کی شہادت پر
القاعدہ برِّ صغیر کے مرکزی قائداستاد اسامہ محمود (حفظه الله) کا بیان

 

التحميل

 

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسوله الكريم

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي

 برِّصغیر اور بالخصوص کشمیر کے میرے محبوب مسلمان بھائیو!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

اللہ ربّ العزت کا فرمان مبارک ہے:

مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ…مؤمنین میں سے کچھ مرد ِمیدان ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ اپنا وعدہ سچا کردکھایا…فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ… پس ان میں سے بعض نے اپنا عہدپورا کردیا… وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ…اور ان میں سے بعض انتظار کررہے ہیں…وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا …اور وہ اپنے عزائم میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں لائے۔[1]

آج جہادِ کشمیر کی مبارک تحریک کو ایک اور بطلِ عظیم نے اپنے پاکیزہ خون سےسیراب کردیا ، راہِ حق کا یہ شہسوار،ہمت و یقین کا یہ پیکر، حق پرستی وحقیقت پسندی کا یہ نمونۂ عمل ا ور غیرتِ ایمانی سے سرشار یہ مرد مجاہد ذاکر موسیٰ رحمہ اللہ ہے ۔ آپ رمضان المبارک کےبا برکت ایام میں مشر ک ہندوؤں کے ساتھ ایک جھڑپ میں شہید ہوگئے۔ انا للہ وانا لیہ راجعون ! ذاکر موسیٰ بھائی کی شہادت کی اس اندوہناک خبرنے یہاں افغانستان میں ہم سب مجاہدین کے دلوں کو غم سے بھر دیا ہے، ہم اس موقع پر اپنے کشمیری بھائیوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ ذاکر موسیٰ بھائی کی شہادت قبول فرمائے ، کشمیری قوم کو سینکڑوں، ہزاروں ذاکر موسیٰ نصیب کرے اور کشمیر سمیت پورے برِّ صغیر کے مسلمانوں کو ذاکر موسیٰ ، برہان وانی اور افضل گورو جیسے قائدین کا پیغام آگے بڑھانے کی تو فیق دے۔

غیرت ایمانی سے سرشار کشمیر کے میرے عزیز بھائیو!

 ذاکر موسیٰ ایک پیغام ہے ، ایک دعوت ہے ، ایک تحریک اور ایک عزم کا نام ہے۔آپ شہید ہوئے ، آپ زندۂ جاوید ہیں ان شاء اللہ ، اپنے رب کا رزق حاصل کر رہے ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ جو شخص اللہ اور صرف اللہ کی غلامی کی دعوت بن کر مارا جائے ، جو فرد کفر و ظلم سے آزادی کا پیغام بن کر قتل ہوجائے ، وہ قتل ہوکر بھی ختم نہیں ہوتا ، وہ زندہ ہی رہتاہے ، اُس کی وہ دعوت اور اُس کا وہ پیغام کبھی مرتا نہیں ہے جس کی حقانیت اور افادیت پر اپنی قیمتی ترین متاع، متاعِ زندگی اس نے قربان کی ہو۔اُس کے گرے ہوئے خون کا ایک ایک قطرہ اس کی سچائی اور اخلاص پر گواہی دیتا ہے۔شیخ عبداللہ عزام رحمہ اللہ نے شہید سید قطب رحمہ اللہ کے یہ جو کلمات کہے ہیں آج یہ ہمارےذاکر موسیٰ بھائی کی شہادت پربھی صادق آتے ہیں ، فرماتے ہیں :

’’ہمارے الفاظ شمع کی لو کی مانند ہیں (یعنی یہ ہلکا اثر رکھتے ہیں)، مگر جب ہم اپنے مبنی بر حق موقف اور سچے مقصد پر ڈٹ جاتے ہیں اور اس کے راستے میں قتل ہوجاتے ہیں تو ہمارے ان مردہ الفاظ میں پھرجان پڑجاتی ہے اور وہ زندہ الفاظ پھر لوگوں کے دلوں کو حرارت بخشتے ہیں ۔‘‘

عزیز بھائیو!

راہِ حق میں اپنی جانیں لٹانے والے رجال پراللہ نے یہ خاص کرم کیا ہے کہ جب ان کے جسم کی قربانی قبول کی جاتی ہے تو ان کے اقوال کے لیے بھی زمین والوں میں پھر قبولیت رکھی جاتی ہے اور وہ اقوال صداقت پسند لوگوں کو حق راستے کی طرف کھینچتےچلےآتے ہیں ۔ اللہ کے اذن سے ذاکر موسیٰ کی دعوت اِن کی شہادت کے بعد اب زیادہ حدّت کے ساتھ ابھرےگی ، اِن کا موقف اِن کا خون گرنے کے بعد اب مزید طاقت حاصل کرے گا ، اِن کا پیغام پہلے بھی مدلل تھا، یہ لاجواب تھا، سچ پر مبنی تھا مگر اب یہ پہلے سے زیادہ مؤثر ہوگیا ہے۔ ذاکر موسیٰ بھائی ایک روشن ستارہ تھے، وہ ستارہ جو جموں و کشمیر کے افق پر نمودار ہی اس لیے ہواتھا کہ مسلمانانِ کشمیر آزادیٔ کشمیر کا صحیح راستہ پہچانیں،وہ اُن بھول بھلیوں سے نکل آئیں کہ جن کے اندر ظالم خائنوں نے ان کی مبارک تحریک کو پھنسا رکھا ہے۔ آج بلا شبہ وہ تابناک ستارہ ایک کہکشاں میں تبدیل ہوگیاہے، ایسی کہکشاں جس میں برہان مظفر وانی اور افضل گورو سے لیکر امیرلمؤمنین ملامحمد عمر، شیخ اسامہ بن لادن اور مولانا عبدالرشید غازی جیسے بے شمار ستارے جگمگارہے ہیں ۔ آج اس کی روشنی میں کشمیرکے مظلوم مسلمان حق وباطل اور اپنوں اور پرایوں کے بیچ فرق پہلے سے کہیں زیادہ اچھی طرح پہچانیں گے ۔تاروں کا یہ جھرمٹ مجاہدینِ کشمیر کو آزادیٔ کشمیر کا وہ مبارک راستہ دکھاتا ہے جہاں اللہ کی نصرتیں اترا کرتی ہیں، آزادی کی منزل کی طرف جہاں فاصلے بڑھتے نہیں ،گھٹتے ہیں اور جس راستے پر کوئی خائن خفیہ ایجنسی ، کوئی کفریہ عالمی طاقت یاکوئی عالمی طاغوتی ادارہ مسلمانانِ کشمیر کی عظیم قربانیوں کو ضائع نہیں کرسکے گا ۔

عزیز بھائیو!

ذاکر موسیٰ رحمہ اللہ منفرد تھے ، آپ سیلاب کی رو میں بہنے والے نہیں تھے کہ وہ خائن ایجنسیوں کو جہادِ کشمیر کی مبارک تحریک سے کھلواڑ کرتا دیکھتے اور خاموش تماشائی بنے رہتے ، وہ ہوا کے رخ میں ایسا ایک قدم لینا بھی اپنے ایمان کی توہین سمجھتے تھے جس کےرُخ بہ منزل ہونے کا انہیں یقین نہیں ہوتا۔ آپ نے جہادِ کشمیر کے نشیب و فراز اور اتار چڑھاؤ کے اسباب سمجھے ، انہیں نظر آیا کہ یہ پاکستانی خفیہ ایجنسیاں ہی ہیں جو اس جہاد کواپنے ماتحت رکھ کر پیش قدمی سے روکتی ہیں اور یہ پاکستان کے جرنیل ہی ہیں جو مظلوم کشمیری قوم کی عظیم قربانیاں محض اپنے مذموم مفاد کی خاطر استعمال کرتے ہیں ۔شہید افضل گورو اور غازی بابا شہید جیسے اصحابِ نظر کے افکار سے بھی آپ کا نظریۂ جہاد قوی ہوگیا، امارت اسلامی افغانستان سے لیکر یمن و مالی اور صومالیہ تک کے گرم محاذوں اور ان سے اٹھتی پکاروں نے بھی آپ کو تحریک جہاد کی سمت سمجھانے میں مدد دی ۔ آپ کو شریعت کی یہ بنیادی تعلیم قبول کرنے میں دیر نہیں لگی کہ جہاد فی سبیل اللہ وہ ہے جس کا مقصد اللہ کی عبادت، اقامتِ دین ، شریعتِ الٰہی کا نفاذ اور مظلوم انسانوں کی مدد و نصرت ہو ،آپ کو اس نتیجے تک پہنچنے میں بھی دشواری نہیں ہوئی کہ اصل آزادی کیا ہے اور وہ نام نہاد ’آزادی ‘ فی الحقیقت کیاچیز ہے جس کے نام پر تعاون کے جھوٹے وعدے کیے جار ہے ہیں ۔ آپ کو یقین ہوگیا کہ جہادِ کشمیر اگر پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے ماتحت رہا ،تو قربانیوں کا یہ سلسلہ چاہےہزار سال بھی چلے ، وہ آزادی کبھی حاصل نہیں ہوگی جس کا خواب کشمیری مسلمانوں نے اپنی آنکھوں میں بسارکھا ہے۔

کشمیر کے میرے عزیز بھائیو!

ذاکر موسیٰ بھائی سچے تھے ، راست گوئی اور حق پرستی میں پکے تھے ، اُن میں دو رنگی نہیں تھی ، یہ اُن کے لیے ناممکن تھا کہ وہ آزادی کا راستہ تو پہچانیں، اپنی آنکھوں سے کامیابی کی طرف چڑھنے والے زینوں کامشاہدہ تو کرلیں مگر محض اس وجہ سے ان پر قدم نہ رکھیں کہ اِن پر چڑھنا آسان نہیں ہے ۔اُن کے سامنے چناؤ مشکل یاآسانی کے بیچ نہیں تھا ،آپشن آزادی اور غلامی کے درمیان تھا، خود شناسی یا خود فریبی کا سوال تھا، حقیقتِ حال دیکھ کرصحیح رخ پر قدم بڑھانے یا آنکھیں بند کرکے بے سمت حرکت جاری رکھنے میں انتخاب کا سوال تھا ،پس آپ نے وہ راستہ چنا جو آپ کے ضمیر کو حق نظر آیا اور جس پر چل کر اپنی قوم کے دکھوں کےمداوے کا یقین انہیں ہوا۔ اللہ کی زمین پر اللہ کی شریعت نافذ کرنے اور نجس ہندوؤں کے تسلط سے آزادی کا جھنڈا آپ نے اٹھایا ،’ شریعت یا شہادت ‘ کا عظیم نعرہ آپ نے بلند کیا اور یہ عہد کرلیا کہ بس اسی کے لیے لڑا جائے اور اس دعوت ہی پر قربان ہواجائے کہ یہی مطلوبِ شریعت ہے ، یہی جہا د فی سبیل اللہ ہے اور صرف یہی آزادی کا راستہ ہے، انہیں کھلی آنکھوں کے ساتھ واضح دکھائی دیاکہ اس راستے کے سوا ہر دوسرا راستہ ، ہر دوسرا نعرہ اور آزادی کی ہر دوسری کوشش خود فریبی ہے ،ایسی بے رحم  خود فریبی کہ جس سے اپنی مظلوم قوم کے زخموں میں مزید اضافہ تو ہوگامگر یہ زخم مندمل کبھی نہیں ہوں گے ! اس نوجوان قائد نے جوحق سمجھا تو اس کے حق ہونے کی برملا گواہی بھی دی اور اس شان سے یہ گواہی دی کہ علامہ اقبال رحمہ اللہ کے یہ اشعار اگران کی تعریف میں کہے جائیں تو ان شاء اللہ مبالغہ نہیں ہوگا :

ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بے زار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخِ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساسِ زیاں تیرا لہو گرمادے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

پھر عزیز بھائیو!یہ بھی ذاکر موسیٰ بھائی پر اللہ کا فضلِ عظیم تھا کہ نفاذِ شریعت کانعرہ ،محض ایک نعرے کے طور پر آپ نے نہیں لیا، خود شریعت کے سامنے جھکنا اور اس پر عمل کرنا بھی آپ نے اپناہدفِ اول بنایا اورجہادی معاملات میں علماء جہاد سے حکم شرعی جاننا اپناطریقہ رکھا ۔  اس نیک سیرت قائد کی یہ خوبی بھی بہت پیاری تھی کہ آپ نے نیک جذبات کے تحت کی ہوئی کسی غیرموزوں بات پر کبھی اصرار نہیں کیا ، بلکہ آئے دن آپ کی دعوت اور جہاد میں نکھار آتا گیا ، یہ آپ کی عظمت اور بالغ نظری ہی تھی کہ داعش جیسے مسلمانوں کے قاتل ٹولے کی چکاچوند سے بھی متاثر نہیں ہوئے ، آپ نے داعش کی مخالفت کرکے کشمیر میں اس فساد کا راستہ روکا اور یہ واضح کردیا کہ نفاذ شریعت اورآزادی کشمیر کے لیے جہاد جہاں فرض ہے ، تحریکِ جہادِ کشمیر کو لٹیروں اور رہزنوں سے محفوظ کرنا جہاں لازم ہے ، وہاں مسلمان عوام کے ساتھ محبت ونصرت کا تعلق نبھانا اور ان کی جان ، مال اور عزتوں کی حفاظت کرنابھی برابر فرض ہے۔

 کشمیر کے ہمارے محبوب اور عزیز بھائیو!

آج ہم کشمیر کے تمام مجاہدین اور سب مسلمانوں کے ساتھ تعزیت کرتے ہیں اور انہیں مبارک باد بھی دیتے ہیں کہ اس قوم میں ذاکر موسیٰ جیسے پہاڑوں سے ٹکرانے والوں کی کمی نہیں ہے ،ہندو فوج کی بے شمار رکاوٹوں کے باوجود ذاکر موسیٰ بھائی کے جنازے میں چالیس ہزار سے زائد کی تعداد میں مسلمانان کشمیر کی یہ حاضری اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قوم ذاکر موسیٰ کے عظیم موقف کی حمایت کرتی ہے اوریہ قوم کامیابی کے اُس راستے پر چلنے کے لیے تیار ہے جس کی نشاندہی موسیٰ بھائی نے اپنے خون سے کی ہے۔ ذاکر موسیٰ بھائی محض کسی خاص جماعت کے فرد نہیں ہیں ، وہ کشمیر کے ہر مجاہد اور ہر کشمیری ماں ، بہن اور بھائی و بزرگ کے خیرخواہ تھے ، لہٰذا ہم کشمیر کے ہر مسلمان اور بلا کسی جماعتی تفریق کے ہر مجاہد سے یہ التجا کرتے ہیں کہ ذاکر موسیٰ کا پیغام اپنے سینے سے لگا لیجیے ، اس پیغام پر لبیک کہیے ، اللہ کی حاکمیت قائم کرنا، شریعت کی اتباع کرنا ، قوم پرستی اور وطنیت کے بتوں کو پاؤں تلے روندنا اور ایک امت کا تصور اجاگر کرنا، مظلوموں کی مددو نصرت ، ظلم و کفر کے ہر تسلط سے آزادی،ہرتعصب سےسینوں کو پاک کرکے اللہ کے لیے دوستی اور اللہ ہی کے لیے دشمنی ،عدل و احسان کا فروغ اور تحریکِ جہادِ کشمیر کی باگ ڈور مکمل طور پر اپنے ہی ہاتھوں میں رکھنا یہ سب امور اللہ کے دین کے مطالبات ہیں اور ان پر عمل کرنا ہی ذاکر موسیٰ رحمہ اللہ کا پیغام ہے ۔ اس پیغام پر لبیک کہیے ، اس کے لیے متحد ہوجائیے، دنیا کی کسی خفیہ ایجنسی کو اپنے راستے میں رکاوٹ مت بننے دیں اور نجس ہندوؤں کے خلاف اس جہاد میں اُس اللہ پر توکل کیجیے کہ جس کے ہاتھ میں تمام ایجنسیوں اور تمام اربابِ اقتدار کی جان ہے۔

یہاں یہ بھی عرض کروں کہ بی جے پی کی یہ حالیہ فتح ثابت کرتی ہے کہ ہندوستان کی اکثریت کشمیری مسلمانوں پر بالخصوص اور ہندوستانی مسلمانوں پر بالعموم ظلم ڈھاتے رہنے پر جہاں متفق ہے وہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی فوج اور یہاں کی منافق حکومتیں مسلمانان کشمیر کا کب کا سودا کرچکی ہیں اور ان کی نام نہاد سیاسی تائید کا یہ ڈرامہ بھی اب زیادہ عرصہ نہیں چل پائے گا۔ ایسے میں آپ کی جرأتِ ایمانی کا امتحان ہے ، آپ صرف اللہ پر بھروسہ کیجیے، موقع پرست اور خود غرض جرنیلوں کی طرف بالکل مت دیکھیے ، مسلمان عوام اورمجاہدین کو اپنا دوست رکھیے اور انہی کے تعاون سے اپنا یہ مبارک  جہادی سفر کو آگے بڑھائیے ، وہ رب ذولجلال اس پر قادر ہے کہ وہ آپ کی مدد اُس صورت میں کرے جس کی آپ کو توقع بھی نہ ہو۔

وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

و آخر دعوانا ان الحمدللہ ربّ العالمین

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

[1] مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا؀

’’ مؤمنین میں سے کچھ مرد ِمیدان ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ اپنا وعدہ سچا کردکھایاپس ان میں سے بعض نے اپنا عہدپورا کردیااور ان میں سے بعض انتظار کررہے ہیں اور وہ اپنے عزائم میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں لائے ۔‘‘ (سورۃ الاحزاب: ۲۳)